سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 292

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۸۰ سرمه چشم آریه ۲۳۲﴾ اور اس کی طرح ہر یک چیز خود بخود اور قدیم اور واجب ہے اور ہمیشہ کے لئے کسی کو نجات نہیں اس کے سب مفاسد ہم نے اس رسالہ میں بیان کر دیئے ہیں اور اس کی رد کے دلائل اپنے ہاتھ سے لکھ دیئے ہیں اور ہم ہریک پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نہایت بری تعلیم ہے کہ جو انسان کو اپنے خالق سے اصلی پیوند ہے اس کو بھی دور کرنا چاہتی ہے چہ جائیکہ اس کو دوسرے پیوند کی خوشخبری دے۔ ایسا ہی یہ لوگ وید کے بعد دنیا کے انتہا تک الہامات الہیہ کے منکر ہیں یہ کس قدر مفسدانہ خیال ہے۔ نبی کا وجود اس لئے ہوتا ہے کہ تا وہ اپنے ظہور سے نقطہ آخری ترقیات انسانیہ کا ظاہر کرے اور اپنے وجود سے دو طرفہ نمونہ صدق عبودیت و فضل ربوبیت قائم کر کے سالکین و مجاہد و مجاہدین کی کمر ہم ہمت مضبوط کرے اور ان کو اسی انتہائی کمال تک اپنے تعطف سے پہنچانا چاہے جس پر عنایت ایزدی نے اس کو قائم کیا ہے لیکن یہ لوگ الہام کو جو کمالیت کی حقیقی علامت ہے ویدوں تک محدود رکھتے ہیں اور اگر کوئی آریہ ہمارے اس تمام رسالہ کو پڑھ کر پھر بھی اپنی ضد کو چھوڑ نا نہ چاہے اور اپنے کفریات سے باز نہ آوے تو ہم خدائے تعالیٰ کی طرف سے اشارہ پاکر اس کو مباہلہ کی طرف ۲۳۲ بقيه کرو۔ اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمۃ اللہ جس قدر حاشیه نبی ورسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توریت میں یہ بات کہہ کر کہ خدا سینا سے آیا اور سعیر سے طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے ان پر چپکا صاف جتلا دیا کہ جلالیت الہی کا ظہور فاران پر آ کر اپنے کمال کو پہنچ گیا۔ اور آفتاب صداقت کی پوری پوری شعاعیں فاران پر ہی آ کر ظہور پذیر ہوئیں اور وہی تو ریت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ فاران مکہ معظمہ کا پہاڑ ہے جس میں حضرت اسمعیل علیہ السلام جدا مجد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سکونت پذیر ہوئے ۔