سُرمہ چشم آریہ — Page 274
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۶۲ سرمه چشم آریه ۲۱۴) بن پڑا بڑا ز در مارا بہت کچھ کوشش کی مگر چونکہ اس کا ادھور پن ایسا نہیں ہے جو کسی کے چھپانے سے چھپ سکے اس لئے بجز بار بار کی خجالت کے اور کچھ اس قیل وقال سے آپ کو حاصل نہیں ہوا۔ بھلا آپ ہی فرمائیں کہ آپ نے پہلی قباحتوں کے جواب میں کیا خاک ثابت کیا ہے۔ جس حالت میں آپ لوگ اپنے ہی منہ سے قائل ہیں کہ تمام روحیں خود بخود ہیں اور ان کے تمام خواص بھی خود بخود۔ ان کی تمام قوتیں بھی خود بخود ایسا ہی پر کرتی بھی خود بخود جسم کا ہر ایک ذرہ بھی خود بخود اور ان کے تمام خواص اور قوتیں خود بخود ۔ ان کا از لی وابدی ہونا بھی خود بخود ۔ پر میشر ہو یا نہ ہو وہ سب بذات خود قائم بذات خود واجب الوجود غرض سارا جہان اپنے دونوں ٹکڑوں کے ساتھ خود بخود ہے تو ان خواص اور قوتوں اور دائمی بقا میں جو روحوں کو خود بخود حاصل ہیں کون سی شکر گزاری کا پرمیشر مستحق ٹھہر سکتا ہے۔ ہے۔ کیا ان چیزوں میں سے پرمیشر نے بھی اپنے گھر سے کچھ دیا ہے اور اس کی گرہ سے بھی کچھ خرچ آیا ہے۔ رہا یہ بار بار کا رونا جو پر میشر نے ۲۱۴ بقيه حاشیه وجود میں یہ تمامتر صفائی منعکس ہو جاتی ہیں ۔ اور یہ انعکاس ہر یک قسم کے تشبّہ سے جو پہلے اس سے بیان کیا گیا ہے اتم واکمل ہے کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جیسے ایک شخص آئینہ صاف میں اپنا منہ دیکھ کر اس شکل کو اپنی شکل کے مطابق پاتا ہے وہ مطابقت اور مشابہت اس کی شکل سے نہ کسی غیر کو کسی حیلہ یا تکلف سے حاصل ہو سکتی ہے اور نہ کسی فرزند میں ایسی ہو بہو مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ مرتبہ کس کے لئے میسر ہے اور کون اس کامل درجہ قرب سے موسوم ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اسی کو میسر آتا ہے کہ جو الوہیت و عبودیت کے دونوں قوسوں کے بیچ میں کامل طور پر ہو کر دونوں قوسوں سے ایسا شدید تعلق پکڑتا ہے کہ گویا ان دونوں کا