سُرمہ چشم آریہ — Page 253
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۴۱ سرمه چشم آریه کے موافق ویدوں پر چلنے سے اپنے وجودوں کو بنالیں تو ایسے رشیوں کے بھیجنے کی ضرورت (۱۹۳) ہی کیا تھی یہ بات ظاہر ہے کہ خدائے تعالیٰ کی کتابیں اور خدائے تعالیٰ کے نبی اسی غرض اور مدعا سے آیا کرتے ہیں کہ تا وہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے نمونہ کی طرح ہو کر ان کو یہ ترغیب و تحریک دیں کہ جو شخص ان کے نقش قدم پر چلے اور ان کے طریق میں محو ہو جائے وہ آخرانہیں کا روپ ہو جائے گا اور انہیں کے رنگ میں آجائے گا لیکن اگر ہندوؤں کے پر میشر نے ایسا ارادہ ہی نہیں کیا کہ ان چار رشیوں کے رنگ سے جونمونہ کے طور پر بھیجے گئے تھے کوئی طالب حق رنگین ہو جائے تو پھر یہ کام ان کے پرمیشر کا سراسر بیہودہ اور فضول ہوگا ۔ اس جگہ اس سوال کے کرنے کی کچھ ضرورت نہیں کہ اگر ہندوؤں کے پرمیشر نے ویدوں کو تکمیل نفوس نا قصہ کے لئے بھیجا تھا تو ویدوں نے نازل ہو کر کس قدر خلقت کو کمال کے درجہ تک پہنچایا ہے کیونکہ اس بارے میں ہندو لوگ آپ ہی قائل ہیں کہ کسی شخص کو ویدوں نے مرتبہ کمال تک نہیں پہنچایا۔ ظاہر ہے کہ کیفیت و حقیقت کمال کی ہندوؤں کے پرمیشر کے نزدیک بھی وہی ہے جس کا نمونہ اس نے ویدوں کے رشیوں میں قائم کیا تھا اور وہ یہی ہے کہ بزعم آر یہ لوگوں کے ان رشیوں کو الہام الہی سے سرفراز فرمایا گیا اب جب کہ کمال معرفت کی حقیقت یہ ٹھہری اور دوسری طرف ان کے پرمیشر نے یہ بھی صاف صاف سنا دیا کہ کوئی شخص ابدالا باد تک بجز چار رشیوں کے بقيه حاشیه پیدا کیا ہے کہ طرف ارتفاع میں اس کے برابر کوئی دوسرا ایسا وجود نہیں ہے ۱۹۳ سو اس سلسلہ کے ارتفاع اور انحصاض پر نظر ڈال کر جو ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے روحانی سلسلہ جو اسی ہاتھ سے نکلا ہے اور اسی عادت اللہ سے ظہور پذیر ہوا ہے خود بلا تامل سمجھ میں آتا ہے کہ وہ بھی بلا تفاوت اسی طرح واقعہ ہے اور یہی ارتفاع اور انحصاض اس میں بھی موجود ہے