سُرمہ چشم آریہ — Page 251
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۹ سرمه چشم آریه کا وبال جلد تر اسے درپیش ہے اور اگر یہ معمولی رنجوں میں سے کوئی رنج ہو تو اس کو پیشگوئی 191 کا مصداق مت سمجھو لیکن اگر ایسا رنج پیش آیا جو کسی کے خیال گمان میں نہیں تھا تو پھر سمجھنا چاہیے کہ یہ مصداق پیشگوئی ہے لیکن اگر وہ باز آنے والا ہے تو پھر بھی انجام بخیر ہوگا یا تنبیہ کے بعد راحت پیدا ہو جائے گی ۔ اور یہ دعوی ہمارا بالکل صحیح اور نہایت صفائی سے ثابت ہے که صراط مستقیم پر چلنے سے طالب صادق الہام الہی پاسکتا ہے کیونکہ اول تو اس پر تجربہ ذاتی شاہد ہے ماسوائے اس کے ہر یک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی معرفت الہی کا اعلیٰ رتبہ نہیں ہے کہ انسان اپنے رب کریم جل شانہ سے ہم کلام ہو جائے۔ یہی درجہ ہے جس سے روحیں تسلی پاتی ہیں اور سب شکوک و شبہات دور ہو جاتے ہیں اور اسی درجہ صافیہ پر پہنچ کر انسان اس دقیقہ معرفت کو پالیتا ہے جس کی تحصیل کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور دراصل نجات کی کنجی اور ہستی موہوم کا عقدہ کشا یہی درجہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے اور کھل جاتا ہے کہ خالق حقیقی کو اپنی مخلوق ضعیف سے کس قدر قرب واقعہ ہے۔ اس درجہ تک پہنچنے کی خبر ہمیں اسی نور نے دی ہے۔ جس کا نام قرآن ہے وہ نور صاف عام طور پر بشارت دیتا ہے کہ الہام کا چشمہ کبھی بند نہیں ہو سکتا۔ جب کوئی مشرق کا رہنے والا یا مغرب کا باشندہ دلی صفائی سے خدائے تعالیٰ کو ڈھونڈھے گا اور اس سے پوری پوری صلح کرلے گا بقيه حاشیه کے لحاظ سے ان کو ایک با ترتیب سلسلہ میں مرتب کریں تو بلا شبہ اس سے ایک 191 اسی خط مستقیم ممتد محدود کی صورت نکل آئے گی جو او پر ثبت کیا گیا ہے۔ طرف ارتفاع کے اخیر نکتہ پر اس استعداد کا انسان ہوگا جو اپنی استعداد انسانی میں سب نوع انسان سے بڑھ کر ہے اور طرف انحصاض میں وہ ناقص الاستعداد روح ہوگی جو اپنے غایت درجہ کے نقصان کی وجہ سے حیوانات لا یعقل کے