سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 228

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۱۶ سرمه چشم آریه ۱۶۸) آخر تک بحر مخلوق پرستی کے بات نہیں کرتا پنڈت دیانند نے تاویلات میں بہت کوشش کی مگر کوئی کج کو سیدھا ظاہر کرنے میں کہاں تک ٹکریں مارے آخر کچھ بھی نہ ہو سکا وید کی تعلیم مخلوق پرستی کے ایک آدھ مقام میں تو نہیں کہ چھپ سکے وہ تو سارا انہی خیالات سے بھرا ہوا ہے۔ تمام دنیا کے پردے میں گھوم آؤ تمام قوموں کو پوچھ کر دیکھ لو کوئی قوم ایسی نہ پاؤ گے کہ جو دید کو پڑھے اور اس کو موحدانہ تعلیم سمجھے ہم سچ سچ کہتے ہیں اور زیادہ باتوں میں وقت کھونا نہیں چاہتے کہ جو کچھ قرآن شریف کے دس ورق سے تو حید کے معارف آفتاب عالمتاب کی طرح ظاہر ہوتے ہیں اگر کوئی شخص وید کے ہزار ورق سے بھی نکال کر دکھلاوے تو نے ہم پھر بھی مان جائیں کہ ہاں وید میں توحید ہے اور جو چاہے حسب استطاعت ہم سے شرط کے طور پر مقرر بھی کرالے ہم قسمیہ بیان کرتے ہیں اور خدائے واحد لاشریک کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم بہر حال ادائے شرط مقررہ پر جس طور سے فیصلہ کرنا چاہیں حاضر ہیں لیکن ناظرین خوب یاد رکھیں اور اے آریہ کے نو عمرو نو گرفتا رو! تم بھی یاد رکھو کہ وید میں ہرگز توحید محض نہیں ہے وہ جابجا مشر کا نہ تعلیم سے مخلوط ہے ضرور مخلوط ہے کوئی اس کو بری نہیں کر سکتا اور زمانہ آتا جاتا ہے کہ اُس کے سارے پر دے کھل جائیں سو تم لوگ اس خدا سے ڈرو جس کی عدالت سے کسی ڈھب روپوش نہیں ہو سکتے ۔ بقيه حاشیه آریہ سماج والوں میں نانک صاحب کے چیلے بھی کچھ کچھ داخل ہیں انہیں ہم بطور لئے کوئی اور خالق تب تجویز کیا جائے جب اول کوئی اس کے سر پر دعویدار اٹھے کہ اس کا میں خالق ہوں اور اُس کو مغلوب اور محکوم کر کے دکھلاوے مگر جب کہ ان تمام باتوں میں سے کوئی بات بھی ثابت نہیں اور من کل الوجوہ خدائے تعالی کامل الذات والصفات اور اپنی ذات میں واحد لاشریک اور در حقیقت سب برتروں سے برتر ہے تو پھر ایسا خیال سراسر دیوانگی اور حماقت ہے ۔ منہ ۔