سُرمہ چشم آریہ — Page 213
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۱ سرمه چشم آریه صنعتیں ایجاد کی ہیں وہ سیاحوں اور واقف کاروں پر پوشیدہ نہیں ہے اب ہمارا مطلب (۱۵۳) یہ ہے کہ اگر ہندوؤں کے پرمیشر میں بھی صرف اتنی ہی خوبی ہے کہ مادی و غیر مادی اشیاء کے خواص جو اسے معلوم ہیں انہیں میں دست اندازی کر کے اور بعض اشیاء کو بعض سے جوڑ کر صنعتیں نکالتا ہے تو یہ کچھ بڑی بات نہیں اور اس صورت میں تو ہمیں اس کی ساری خدائی کی حقیقت معلوم ہوگئی اور ظاہر ہو گیا کہ اس دم ہو گئی اور ظاہر ہو گیا کہ اس میں اور انسان میں صرف علم کی کمی بیشی کا کچھ فرق ہے اور ممکن ہوگا کہ انسان بھی اپنے معلومات میں ترقی کرتا کرتا کسی وقت پر میشر ہی بن رہی بن جاوے ۔ جس حالت میں شر ے۔ جس حالت میں شہد کی مکھی میں بھی میں بھی یہ ہنر پایا جاتا ہے کہ وہ ایسی عقل مندی سے شہد بناتی ہے کہ کوئی انسان اس کی نظیر بنانے پر قادر نہیں پھر اگر بقيه حاشیه سے چند عرصہ تک باجا بجتا رہتا ہے ایسا ہی صد ہا اور کلیں چھوٹی بڑی ہیں جو ۱۵۳ حال کے صناعوں نے طیار کری ہیں اور بمبئی اور کلکتہ اور اکثر دیگر مقامات میں سوداگروں کی دکان پر مل سکتی ہیں اور یورپ کے اکثر کا ریگر دانتوں کی جگہ دانت اور آنکھ کی پتلی کی جگہ آنکھ کی پتلی اور ٹانگوں کی جگہ ٹانگ اور بالوں کی جگہ مصنوعی بال لگا کر گزارہ چلا دیتے ہیں ۔ بعض حکیموں نے چاند بنا کر اور چڑھا کر محدود حد تک اس کی روشنی سے کام لیا ہے بعض نے پرند بنا کر کنجی دینے سے ایک حد تک انہیں اڑا کر دکھلا دیا ہے اور بعض نے مینہہ برسنے کی ترکیب نکالی اور کسی حد کے اندر اندر مینہ برسا دیا ایسا ہی قسم قسم کے پھول اور پھل اور موتی و دیگر جواہرات ایسے بنائے گئے ہیں جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیا ہے اور ابھی انسان کی صانعیت کی کچھ انتہا نہیں کیونکہ وہ ترقیات غیر محدود کے لئے پیدا کیا گیا ہے جن کی تحصیل کے لئے وہ فطرتاً مشغول ہے ۔منہ ۔