سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 200

روحانی خزائن جلد ۲ ۱۸۸ سرمه چشم آریه ۱۴۰ قدرت بید پوران کتیباں قدرت سرب بچار ۔ یعنے بید پوران شاستر سب خدا کا کلام ہی ہے سو وہ لوگ جو سکھ ہو کر آریہ سماج میں داخل ہیں اور دو دو ہاتھ کے برابر کیس سر پر رکھے ہوئے ہیں ان پر تو واجب ہے کہ اپنے گورونا تک صاحب کے شبد پر عمل کر کے سب پورانوں کو ایشر کا کلام ہی سمجھیں ۔ غرض جب منوسمرت اور پرانوں کے رو سے ایسی عزت اور ایسے حقوق برہمن کو حاصل ہیں تو پھر در حقیقت ہندوؤں کے پرمیشر نے بہت بے جا کام کیا کہ ایک برہمنی کو ایک ادنی گناہ سے سخت سزا دے دی۔ در حقیقت ایسی سخت سزا دینے سے پر میشر کی عدالت پر بڑا دھبہ لگتا ہے کہ اس نے ایسی سنگین اور سخت سزا دی کہ غریب برہمنی کو اپنی اصلی صورت سے مسخ کر کے قیدیوں کی طرح سخت اور خود غرض لوگوں کے حوالہ کر دیا ۔ جن میں سے کوئی تو اس کے بچہ کو بھو کا چھوڑ کر اس کا دودھ پی جاتا ہے اور کوئی اس کی ہڈیوں اور چمڑہ کے فکر میں رہتا ہے اور کوئی اس کے بچوں پر جوا رکھ کر دن رات ان کی جان کو مارتا ہے اور کوئی بار برداری سے ان کو ریش اور مجروح کرتا ہے غرض کوئی کسی طرح سے اور سے اور کوئی کسی طرح سے ان پر ظلم سی طرح سے ان پر ظلم کرتا ہے ۔ یاں تک کہ خود آریہ لوگ بھی اس پر رحم نہیں کرتے اور غلاموں کی طرح اس کی خرید اور فروخت جاری رکھتے ہیں اور ہمیشہ قید رکھ کر سختی پر سختی کرتے رہتے ہیں ۔ سوا گر گائے کے ان پر درد واقعات کو بمقابل جنگلی چرندوں اور پرندوں کے دیکھا جائے یا دریا کے جانوروں کے مقابل پر وزن کیا جائے تو حقیقت میں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پر میشر نے گائے کو بڑی سخت سزا دی ہے اور اگر یہ کہو کہ پر میشر نے اس لئے یہ سخت سزا دی کہ تا آئندہ کوئی برہمنی ایسا برا کام نہ کرے تو یہ جواب بھی پوچ ہے کیونکہ اگر پر میشر کا یہی مطلب ہوتا تو گائے کو انسان کی طرح زبان گویائی دیتا تا وہ برہمنوں کے گھر جا کر اپنی بہنوں کو سمجھاتی کہ اے بہنو ! میرا حال دیکھو اگر تم ایسا کرو گی تو تم بھی ایسا ہی پاؤ گی یا ایسا کرتا کہ پھر جب کبھی گائے آدمی کی جون میں آ جاتی تو وہ تمام مصیبتیں