سُرمہ چشم آریہ — Page 170
روحانی خزائن جلد ۲ ۱۵۸ سرمه چشم آریه فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ - تُؤْتِي أَكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ لے یعنی پاک کلمات پاک درختوں سے مشابہت رکھتے ہیں جن کی جڑھ مضبوط ہے اور شاخیں آسمان میں اور ہمیشہ اور ہر وقت تر و تازہ پھل دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مقام میں اللہ تعالیٰ نے امور ایمانیہ کو باغات سے تشبیہہ دی ہے اور اعمال صالحہ کو نہروں سے جو اس باغ کے نیچے بہتی ہیں اور اس کی جڑوں کو پانی پہنچا کر اس کو ترو تازہ رکھتی ہیں ۔ اور ایک جگہ قرآن شریف میں یہ بھی ذکر آیا ہے کہ جب عارف لوگ بہشت میں کسی قسم کی لذت حتی طور پر پائیں گے تو ان کو یقین ہوگا کہ یہ لذات انہیں روحانی لذات سے مشابہ ہیں جن کو ہم دنیا میں عشق اور محبت الہی کی وجہ سے پاتے تھے ایسا ہی قرآن شریف میں بیسیوں مقامات میں اس بات کا ذکر پایا جاتا ہے کہ عالم آخرت میں جو جسمانی طور پر لذات بہشتیوں کو دی جائیں گی حقیقت میں وہ سب روحانی لذات کے اظلال و آثار ہوں گے اگر وہ سب مقامات قرآنی بحوالہ آیات اس جگہ لکھے جائیں تو اس رسالہ میں بہت ساطول ہو جائے گا۔ سو ہم جیسا کہ وعدہ کر چکے ہیں ماسٹر مرلید ھر صاحب کی درخواست سے یہ سب امور مفصل طور پر کسی الگ رسالہ میں تحریر کریں گے ۔ اور واضح رہے کہ لذات روحانی کا جسمانی طور پر مشمتل ہونا جو بہشت کی نہ پر ا جو بہشت کی نسبت بیان کیا گیا ہے کوئی ایسا امر نہیں ہے جس کو جدید اور دور از فہم خیال کیا جائے ۔ دیکھنا چاہئے کہ عالم رویا یعنی عالم خواب میں بھی ( جو اس دوسرے عالم سے بشدت مشابہ ہے گویا اس کی دوسری شاخ ہے ) کیسے امور معقوله ار محسوس طور پر مشہود ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہر یک عقلمند انسان اپنے ذاتی تجربہ سے عالم رویا میں معقولات کا محسوسات کے پیرایہ میں متمثل ہونا بخوبی جانتا ہوگا بارہا ہم تم اپنے سرور اور خوشی کی ۔ ر اور خوشی کی حالت میں جو ایک روحانی امر ہے عالم دریا میں ایک نهایت سرسبز باغ دیکھتے ہیں جس میں ہم سیر کر رہے ہیں یا عمدہ میوؤں کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کو ہم کھا رہے ہیں سو حقیقت میں یہ وہی روحانی خوشی اور راحت ہوتی ہے جو جسمانی طور پر ہم کو نظر آ جاتی ہے۔ ایسا ہی کبھی غم کی حالت سانپ یا بچھو یا صاعقہ یا کسی ابراهیم : ۲۶،۲۵ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے رویا “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) ☆ ہے۔