سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 74

روحانی خزائن جلد ۲ ۶۲ سرمه چشم آریه ۱۴ دلالت کرتے ہیں سو جاننا چاہئے کہ نیچر کے ماننے والے یعنی قانون قدرت کے پیرو کہلانے والے اس خیال پر زور دیتے ہیں کہ یہ بات بدیہی ہے کہ جہاں تک انسان اپنی عقلی قوتوں سے جان سکتا ہے وہ بجز قدرت اور قانون قدرت کے کچھ نہیں یعنی مصنوعات و موجودات مشہودہ موجودہ پر نظر کرنے سے چاروں طرف یہی نظر آتا ہے کہ ہر یک چیز مادی یا غیر مادی جو ہم میں اور ہمارے ارد گرد یا فوق وتحت میں موجود ہے وہ اپنے وجود اور قیام اور ترتیب آثار میں ایک عجیب سلسلہ انتظام سے وابستہ ہے جو ہمیشہ اس کی ذات میں پایا جاتا ہے اور کبھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔ قدرت نے جس طرح پر جس کا ہونا بنا دیا بغیر خطا کے اسی طرح ہوتا ہے اور اُسی طرح پر ہوگا پس وہی سچ ہے اور اصول بھی وہی سچے ہیں جو اس کے مطابق ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ بلاشبہ یہ سب سچ مگر کیا اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ قدرت الہی کے طریقے اور اس کے قانون اسی حد تک ہیں جو ہمارے تجربہ اور مشاہدہ میں آچکے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔ جس حالت میں الہی قدرتوں کو غیر محدود ماننا ایک ایسا ضروری مسئلہ ہے جو اسی سے نظام کارخانہ الد بقیه حاشیہ تمام آسمانی کتابوں کا مغز اور لب لباب بھرا ہوا ہے اور پھر فرماتا ہے۔ وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِينَ لا یعنی اے منکرین اگر تم اس کلام کے بارہ میں جو ہم نے اپنے بندہ پر نازل کیا ہے کچھ شک میں ہو یعنی اگر تم اس کو خدا کا کلام نہیں سمجھتے اور ایسا کلام بنانا انسانی طاقت کے اندر خیال کرتے ہو تو تم بھی ایک سورت جو انہیں ظاہری باطنی کمالات پر مشتمل ہو بنا کر پیش کرو۔ اور اگر تم نہ بناسکو اور یاد رکھو کہ ہرگز بنا نہیں سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن پتھر ( بت ) اور آدمی ہیں یعنی بت اور مشرک اور نافرمان لوگ ہی اس آگ کے بھڑ کنے کا موجب ہو رہے ہیں اگر دنیا میں بت پرستی و شرک و بے ایمانی و نا فرمانی نہ ہوتی تو وہ آگ بھی افروختہ نہ ہوتی تو گویا اس کا ایندھن یہی چیزیں ہیں جو علت موجبہ البقرة : ۲۴ ۲۵۰