سچائی کا اظہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 502

سچائی کا اظہار — Page 376

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۷۴ شهادة القرآن ۷۹ کا مصداق ہیں اور اسلام کی دینی دنیوی حالت ایسی ہی ابتر ہو گئی ہے جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں کی حالت ابتر تھی اور جیسا کہ مسیح ایسے وقت میں آیا کہ اُس وقت دین کے لئے تلوار اٹھانا بالکل نامناسب تھا وجہ یہ کہ یہودی اپنی بدچلنی سے اپنے ملک کو کھو بیٹھے تھے اور رومی سلطنت کا ملک گیری میں کچھ قصور نہ تھا تا اُن پر تلوار اُٹھائی جاتی ۔ یہی حال آج کل ہے کہ مسلمانوں کے بادشاہوں نے آپ بے اعتدالیاں کر کے اور نالائق عیشوں میں مبتلا ہو کر اپنا ملک کھویا بلکہ اُن میں ملک داری کی لیاقت ہی باقی نہ رہی سو خدا تعالیٰ نے انگریزوں کو ملک دیا اور انہوں نے ملک لے کر کچھ ظلم نہ کیا۔ کسی کا نماز روزه بند نہ کر دیا ۔ کسی کو حج جانے سے منع نہ کیا بلکہ عام آزادی اور امن قائم کیا۔ پھر ان پر باوجود حسن ہونے کے کیونکر خدائے کریم و رحیم تلوار اٹھانے کا فتوی دیتا کیا اس کے پاس دین پھیلانے کا ذریعہ صرف ظاہری تلوار تھی روحانی تلوار نہ تھی پھر اس پر طرہ یہ کہ اس وقت تلوار کا ایمان کچھ معتبر نہیں انگریزوں نے تلوار سے کسی کو اپنے مذہب میں داخل نہیں کیا تا تلوار کا جواب تلوار ہوتا بلکہ لوگ نئے فلسفہ اور نئے طبعی اور پادریوں کے وساوس سے ہلاک ہوئے بقیہ حاشیہ نبی کی روح کی سرایت سے پرواز کرتے تھے ورنہ حقیقی خالقیت کے ماننے سے عظیم الشان فساد اور شرک لازم آتا ہے۔ غرض تو معجزہ سے ہے اور بے جان کا باوجود بے جان ہونے کے پرواز یہ بڑا معجزہ ہے۔ ہاں اگر قرآن کریم کی کسی قراءت میں اس موقعہ پر فيكون حیا کا لفظ موجود ہے یا تاریخی طور پر ثابت ہے کہ در حقیقت وہ زندہ ہو جاتے تھے اور انڈے بھی دیتے تھے اور اب تک اُن کی نسل سے بھی بہت سے پرندے موجود ہیں تو پھر ان کا ثبوت دینا چاہیے۔ اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے کہ اگر تمام دنیا چاہے کہ ایک مکھی بنا سکے تو نہیں بن سکتی کیونکہ اس سے تشابہ فی خلق اللہ لازم آتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے آپ ان کو خالق ہونے کا اذن دے رکھا تھا یہ خدا تعالیٰ پر افترا ہے کلام الہی میں تناقض نہیں خدا تعالیٰ کسی کو ایسے اذن نہیں دیا کرتا ۔ اللہ تعالیٰ نے سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مکھی بنانے کا بھی اذن نہ دیا پھر مریم کے بیٹے کو یہ اذن کیونکر حاصل ہوا ۔ خدا تعالی سے ڈرو اور مجاز کو حقیقت پر حمل نہ کرو۔ منہ