سچائی کا اظہار — Page 286
روحانی خزائن جلد ۶ ۲۸۴ جنگ مقدس 1 - قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ اگر کوئی حالت مجبوری میں خدا کا انکار کر لیوے لیکن قلب اس کا حق کے اوپر مطمئن رہے بوجہ اس اکراہ کے اور اطمینان کے غضب الہی ۔ ہی اسے وہ محفوظ رہے گا۔ اس پر ہمارا اعتراض یہ تھا کہ یہ ناحق کی خوف پرستی ہے کہ جو قا در قدوس سکھلاتا ہے اور ایسا ہونا نہ چاہیے۔ اس تعلیم کو سورہ نحل کی اس آیت میں دیکھ لیں گے کہ جس میں لکھا ہے کہ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِةِ الى L ے۔ پولوس کا یہ کہنا کہ میں یہودیوں میں یہودیوں سا ہوں اور غیر قوموں میں غیر قوم سا۔ اس کے یہ معنی نہیں ہو سکتے کہ وہ بے ایمان دور نگا تھا بلکہ اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ جہاں تک میں کسی سے اتفاق کر سکتا ہوں نفاق نہ کروں گا۔ چنانچہ اس موقع کو غور فرما کر دیکھ لیں۔ یہ پہلا قرنتی ۲۰ ۲۱ ۲۲ اور پطرس کا انکار صاف گناہ کا ہے اور مسیح پر اس نے لعنت نہیں کی تھی بلکہ اپنے اوپر ۔ معلوم نہیں کہ جناب کو کس گھبراہٹ نے پکڑا ہے کہ صحیح اقتباس کلام کا بھی نہیں فرماتے ۔ آپ کیا حوالہ بے ایمان انگریزوں کا دیتے ہیں کیا وہ انجیل میں کلام بائبل اور قرآن کے اوپر ہے نہ بد عمل لوگوں کے اوپر ۔ ۔ میں جہاز پر سوار ہو آیا ہوں میں نے سورج کو کسی دلدل کی ندی میں غروب ہوتے نہیں دیکھا اور نہ کسی اور نے دیکھا۔ اور وہ جو اس آیت میں بیان ہے کہ اس نے پایا کہ سورج دلدل کی ندی میں غروب ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ تصدیق خدائے قرآنی کی بھی ہے جو یہ کہتا ہے يَسْأَلُونَكَ ، الخ یعنی تجھ سے سوال کرتے ہیں بابت ذوالقرنین کی اور ان سے وعدہ ہوتا ہے کہ ہم ابھی بیان کریں گے ۔ پس اس میں تصدیق اسی خدا کی ہے نہ صرف پانا ذوالقرنین کا۔ اس سے ظاہر ہو جیو کہ جناب اس اعتراض کو اٹھا نہیں سکتے ۔ یہ محاورہ کی بات نہیں بلکہ محاورہ کے بر خلاف ہے کہ آفتاب دلدل کی ندی میں غروب کر گیا کیونکہ بدو نظر اور محاورہ کسی زبان یا مکان کا ایسا کبھی نہیں ہوا کہ سورج کسی دلدل کی ندی میں غروب کرتا ہے۔ ہاں البتہ یہ تو عام محاورہ اور مجاز ہے جو لوگ کہتے ہیں سورج نکلا اور سورج غروب ہوا۔ اور نہ وہ محاورہ جو آپ فرماتے ہیں اور جو امور بدونظر میں کچھ صورت ظہور کی دکھلاتے ہیں ان کا کلام اس صورت النحل : ۱۰۷ - الكهف : ۸۴