سچائی کا اظہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 502

سچائی کا اظہار — Page 181

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۷۹ جنگ مقدس ذخیرہ کثیر ثبوتوں کا نظر آتا ہے ایک طرف عقل سلیم انسان کی اس اعتقاد کو دھکے دے رہی ہے اور ایک طرف قیاس استقرائی شہادت دے رہا ہے کہ اب تک اس کی نظیر بجز دعوی متنازعہ فیہ کے نہیں پائی گئی اور ایک طرف قرآن کریم جو بے شمار دلائل سے اپنی حقانیت ثابت کرتا ہے اس سے انکاری ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطنًا وَمَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ نَّصِيرٍ لے (س ۱۷(۱۶) یعنی عبادت کرتے ہیں سوائے اللہ کے ایسی چیز کی جس کی خدائی پر اللہ تعالیٰ نے کوئی نشان نہیں بھیجا یعنی نبوت پر تو نشان ہوتے ہی ہیں مگر وہ خدائی کے کام میں نہیں آسکتے اور پھر فرماتا ہے کہ اس عقیدہ کے لئے اُن کے پاس کوئی علم بھی نہیں یعنی کوئی ایسی معقولی دلائل بھی نہیں ہے جن سے کوئی عقیدہ پختہ ہو سکے اور پھر فرماتا ہے ۔ وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِذًا تَكَادُ السَّمُوتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَذَا - اَنْ دَعَوُا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا (س (۹/۱۶) اور کہتے ہیں کہ رحمان نے حضرت مسیح کو بیٹا بنا لیا ہے یہ تم نے اے عیسائیو! ایک چیز بھاری کا دعویٰ کیا۔ نزدیک ہے، جو سے آسمان و زمین پھٹ جاویں اور پہاڑ کا نپنے لگیں کہ تم انسان کو خدا بناتے ہو پھر بعد اس کے جب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اس خدا بنانے میں یہودی لوگ جو اول وارث توریت کے تھے جن کے عہد عتیق کی پیشگوئیاں سراسر غلط انہی کی وجہ سے پیش کی جاتی ہیں کیا کبھی اُنہوں نے جو اپنی کتابوں کو روز تلاوت کر نیوالے تھے اور اُن پر غور کر نیوالے تھے اور حضرت مسیح بھی اُن کی تصدیق کرتے تھے کہ یہ کتابوں کا مطلب خوب سمجھتے ہیں اُن کی باتوں کو مانو کیا کبھی اُنہوں نے ان بہت سی پیش کردہ پیشگوئیوں میں سے ایک کے ساتھ اتفاق کر کے اقرار کیا کہ ہاں یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود کو خدا بتاتی ہے۔ اور آنے والا مسیح انسان نہیں بلکہ خدا ہوگا۔ تو اس بات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔ ہر ایک ۸۹ دانا سوچ سکتا ہے کہ اگر حضرت مسیح سے ان کو کچھ بخل اور بغض پیدا ہوتا تو اس وقت پیدا ہوتا جب حضرت مسیح تشریف لائے ۔ پہلے تو وہ لوگ بڑی محبت سے اور بڑی غور سے انصاف و آزادی سے ان پیشگوئیوں کو دیکھا کرتے تھے اور ہر روز ان کتابوں کی تلاوت کرتے تھے اور تفسیریں لکھتے تھے۔ پھر کیا غضب کی بات ہے کہ یہ مطلب ان سے بالکل پوشیدہ رہا۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ اس الحج: ۷۲ مریم: ۸۹ تا ۹۲