سچائی کا اظہار — Page 120
۳۴ روحانی خزائن جلد ۶ ۱۱۸ جنگ مقدس انجیل شریف کے تمام مقامات اور بائبل کی تمام پیشگوئیوں کو حل کرنے والا اور بطور ان کی تفسیر کے ہے۔ مگر اس کے لئے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ ☆ پھر ڈپٹی صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ یہودیوں کا اتفاق کیوں مانگا جائے۔ سو واضح ہو کہ یہودیوں کا اتفاق اس لئے مانگا جاتا ہے کہ وہ نبیوں کی اولا داور نبیوں سے مسلسل طور پر تعلیم پاتے آئے اور انجیل شریف کا بھی مقام شہادت دے رہا ہے کہ ہر ایک تعلیم نبیوں کی معرفت ان کو سمجھائی بلکہ حضرت عیسی خود شہادت دیتے ہیں کہ فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں جو کچھ وہ تمہیں ماننے کو کہیں وہ عمل میں لاؤ لیکن ان کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں پر کرتے نہیں“ ۔ (متی ۲۳ باب ) اب حضرت مسیح کے اس فرمودہ سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنے متبعین اور شاگردوں کو نصیحت فرما رہے ہیں کہ یہودیوں کی رائے عہد عتیق کے بارہ میں ماننے کے لائق ہے تم ضرور اس کو مانا کرو کہ وہ حضرت موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس سے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہودیوں کی شہادت کو رد کرنا ایک قسم کی نافرمانی حضرت مسیح کے حکم کی ہے۔ اور یہودی یہ تو اپنی تفسیروں میں کہیں نہیں لکھتے کہ کوئی حقیقی خدا یا خدا کا بیٹا آئے گا۔ ہاں ایک سچے مسیح کے منتظر ہیں اور اس مسیح کو خدا نہیں سمجھتے ۔ اگر سمجھتے ہیں تو ان کی کتابوں میں سے اس کا ثبوت دیں۔ (باقی آئندہ ) دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح ( پریزیڈنٹ ) از جانب اہل اسلام ہنری مارٹن کلارک (پریزیڈنٹ) از جانب عیسائی صاحبان بیان ڈپٹی صاحب مسٹر عبداللہ آتھم ۲۴ رمتی ۱۸۹۳ء بقیہ جواب ۔ خدا کے کلام کی فضیلت و کمالیت پہلے ۔ انجیل اس بات کی مدعی ہے کہ وہ لازوال کلام ہے حتی کہ لوگوں کی عدالت اسی کے موافق ہوگی ۔ (یوحنا ۲ باب ۴۸ سے ۵۰ تک ) سہو کتابت معلوم ہوتا ہے متی ۲۳ باب ۳۲ “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)