سچائی کا اظہار — Page 115
روحانی خزائن جلد ۶ الله جنگ مقدس نہیں کی گئیں ۔ بجوار لیں ۔ بجواب اس کے عرض ہے کہ ان سب نے مدار نجات کا مسیح پر رکا نے لمسیح رکھا۔ بات کا امسیح پر رکھا ہے پھر آپ ہی یہ کیونکر فرماتے ہیں کہ مسیح کی صفات اور نبیوں سے بڑھ کر نہیں کی گئیں ۔ کس نبی کے بارہ میں بجز مسیح یہ کہا گیا کہ وہ ہمتائے خدا ہے۔ ذکر یا باب ۱۳- ۷ ۔ وہ یہوا صد قنو جو تخت داؤدی پر آنے والا ہے یرمیاہ باب ۲۳ - ۵ و ۶ وے ۔ وہ خدائے قادر ۔ اب ابدیت ۔ شاہ سلامت ہے مشیر مصلح جو تخت داؤ دی پر ابد تک سلطنت کرے گا۔ یسعیا ۹-۶ و۷ تتمتاً بقایا دیروزہ جس میں جناب نے فضیلت کلام انجیل کی پوچھی ہے ملاحظہ فرمائیے یوحنا کے باب ۱۲۔ ۲۹۴۸ سے ۵۰ تک انجیل وہ کلام ہے کہ جس کے موافق عدالت سب لوگوں کی ہوگی یعنی کل عالم کی۔ (باقی آئندہ) دستخط دستخط بحروف انگریزی بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام جواب حضرت مرزا صاحب ۲۴ رمتی ۶۹۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کسی قدر کل کے سوالات کا بقیہ رہ گیا تھا۔ اب پہلے اس کا جواب دیا جاتا ہے۔ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب مجھ سے دریافت فرماتے ہیں کہ استقراء کیا چیز ہے اور استقراء کی کیا تعریف ہے؟ اس کے جواب میں واضح ہو کہ استقراء اس کو کہتے ہیں کہ جزئیات مشہودہ کا جہاں تک ممکن ہے تتبع کر کے باقی جزئیات کا انہیں پر قیاس کر دیا جائے۔ یعنی جس قدر جزئیات ہماری نظر کے سامنے ہوں یا تاریخی سلسلہ میں ان کا ثبوت مل سکتا ہو تو جو ایک شان خاص اور ایک حالت خاص قدرتی طور پر وہ رکھتے ہیں اسی پر تمام جزئیات کا اس وقت تک قیاس کر لیں جب تک کہ ان کے مخالف کوئی اور جز کی ثابت ہو کر