سچائی کا اظہار — Page 87
روحانی خزائن جلد ۶ ۸۵ جنگ مقدس تقریر حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بسم الله الرحمن الرحيم الحَمْدُ للهِ رَبِّ العالمين والصلوة والسلام على رسوله مُحمدٍ وآله واصحابه اجمعين اما بعد واضح ہو کہ آج کا روز جو ۲۲ رمئی ۱۸۹۳ ء ہے اس مباحثہ اور مناظرہ کا دن ہے جو مجھ میں اور ڈپٹی عبداللہ آتھم صاحب میں قرار پایا ہے۔ اور اس مباحثہ سے مدعا اور غرض یہ ہے کہ حق کے طالبوں پر یہ ظاہر ہو جائے کہ اسلام اور عیسائی مذہب میں سے کونسا مذہب سچا اور زندہ اور کامل اور منجانب اللہ ہے اور نیز حقیقی نجات کسی مذہب کے ذریعہ سے مل سکتی ہے۔ اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ پہلے بطور کلام کلی کے اسی امر میں جو مناظرہ کی علت غائی ہے انجیل شریف اور قرآن کریم کا مقابلہ اور موازنہ کیا جاوے لیکن یہ بات یادر ہے کہ اس مقابلہ اور مواز نہ میں کسی فریق کا ہرگز یہ اختیار نہیں ہوگا کہ اپنی کتاب سے باہر جاوے یا اپنی طرف سے کوئی بات منہ پر لاوے بلکہ لازم اور ضروری ہوگا کہ جو دعوی کریں وہ دعوی اس الہامی کتاب کے حوالہ سے کیا جاوے جو الہامی قرار دی گئی ہے اور جو دلیل پیش کریں وہ دلیل بھی اسی کتاب کے حوالہ سے ہو کیونکہ یہ بات بالکل سچی اور کامل کتاب کی شان سے بعید ہے کہ اس کی وکالت اپنے تمام ساختہ پرداختہ سے کوئی دوسرا شخص کرے اور وہ کتاب بکلی خاموش اور ساکت ہو ۔ اب واضح ہو کہ قرآن کریم نے اسلام کی نسبت جس کو وہ پیش کرتا ہے یہ فرمایا ہے اِن الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ (س (۱۰/۳) وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِينَ ) ( سیپاره ۳ رکوع ۱۷) ترجمه یعنی دین سچا اور کامل اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہے اور جو کوئی بجز اسلام کے کسی اور دین کو چاہے گا تو ہرگز قبول نہیں کیا جاوے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں میں سے ہوگا۔ ال عمران : ۲۰ ۲ ال عمران : ۸۶