ستارہ قیصرہ — Page 558
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۵۸ تحفہ غزنویه ہنسی اکثر مراسی کیا کرتے ہیں ۔ ہمیں معلوم نہیں کہ میاں عبد الحق نے کیوں یہ طریق اختیار کیا ہے ۔ بھلا اگر ابھی کوئی میاں عبداللہ غزنوی پر چند ایسے اعتراض کر دے کہ اگر وہ ملہم تھا تو اُس کو چاہیے تھا کہ اپنے فلاں فلاں ذاتی نقص دُور کرتا اور لوگوں کو یہ نشان دکھلاتا تو مجھے معلوم نہیں کہ غزنوی صاحبان کیا جواب دیں گے۔ اے عزیز ! اگر تم دوسرے کو اس طرح پر دکھ دو گے تو وہ تمہارے باپ اور تمہارے مرشد تک پہنچے گا ۔ پس ان فتنہ انگیز باتوں سے فائدہ کیا ہوا بلکہ خدا کے نزدیک اپنے باپ اور اپنے مرشد کی تحقیر کرنے والے تم خود ٹھہرو گے ۔ اور اگر خدا کی قضا و قدر سے خود تمہاری دونوں آنکھوں پر نزول الماء نازل ہو جائے یا ٹانگوں پر فالج پڑے تو یہ ساری ہنسی یاد آ جائے ۔ اے غافلو ! دوسروں پر کیوں عیب لگاتے ہو ۔ کیا ممکن نہیں کہ خود تم کسی وقت ایسے بدنی نقص میں مبتلا ہو جاؤ کہ لوگ تم پر ہنسیں یا تمہارے چھونے سے پر ہیز کریں ۔ خدا سے ڈرو اور کفار کا شعا ر اختیار نہ کرو۔ یاد رکھو کہ تمام نبیوں نے اُن لوگوں کو ملعون ٹھہرایا ہے جو نبیوں اور ماموروں سے اقتراحی نشان مانگتے ہیں ۔ دیکھو حضرت عیسی علیہ السلام نے کیا فرمایا کہ اس زمانہ کے حرامکار مجھ سے نشان مانگتے ہیں انہیں کوئی نشان دکھلایا نہیں جائے گا ۔ ایسا ہی قرآن نے ان لوگوں کا نام ملعون رکھا جو لوگ حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تجویز سے نشان مانگا کرتے تھے جن کا بار بار لعنت کے ساتھ قرآن شریف میں ذکر ہے جیسا کہ وہ لوگ کہتے تھے فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ کے یعنی ہمیں حضرت موسیٰ کے نشان دکھلائے جائیں یا حضرت مسیح کے اور کبھی آسمان پر چڑھ جانے کی درخواست کرتے تھے اور کبھی یہ نشان مانگتے تھے کہ سونے کا گھر آپ کے لئے بن جائے اور ہمیشہ انہیں نفی میں جواب ملتا تھا۔ تمام قرآن شریف کو ا الانبياء : ٦