ستارہ قیصرہ — Page 444
روحانی خزائن جلد ۱۵ تریاق القلوب جرم کا ثبوت نہ ہو وہ بری کہلائے گا کیونکہ انسان کے لئے بری ہونا طبعی حالت ہے اور گناہ ایک عارضہ ہے جو پیچھے سے لاحق ہوتا ہے۔ ایک اور امر عظیم الشان ہے جو اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کی میعاد میں ظہور میں آیا جس سے اشتہار مذکورہ کی پیشگوئی کا پورا ہونا اور بھی وضاحت سے ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ پیشگوئی جو چوتھا لڑکا ہونے کے بارے میں ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ میں کی گئی تھی جس کے ساتھ یہ شرط تھی کہ عبد الحق غزنوی جو امرتسر میں مولوی عبد الجبار غزنوی کی جماعت میں رہتا ہے نہیں مرے گا جب تک یہ چوتھا لڑکا پیدا نہ ہوئے۔ وہ پیشگوئی اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کی میعاد کے اندر پوری ہوگئی اور وہ لڑکا بفضلہ تعالیٰ پیدا ہو گیا جس کا نام بفضلہ تعالیٰ مبارک احمد رکھا گیا اور جیسا کہ پیشگوئی میں شرط تھی کہ عبد الحق غزنوی اُس وقت تک زندہ ہوگا کہ چوتھا لڑکا پیدا ہو جائے گا ایسا ہی ظہور میں آیا۔ اور اب اس وقت تک که ۱۵ دسمبر ۱۸۹۹ء ہے ہر ایک شخص امرتسر میں جا کر تحقیق کرلے کہ عبدالحق اب تک زندہ ہے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ یہ صاف صاف اور کھلی کھلی پیشگوئی محمد حسین اور اُس کے گروہ کی عزت کا موجب نہیں ہو سکتی کیونکہ خدا نے ایسے انسان کی دعا کو قبول کر کے جو محمد حسین اور اُس کے گروہ کی نظر میں کافر اور دجال ہے اس کی پیشگوئی کے مطابق عبد الحق غزنوی کی زندگی میں اُس کو پسر چہارم عنایت فرمایا اور یہ ایک تائید الہی ہے جو بجز صادق انسان کے اور کسی کے لئے ہر گز نہیں ہو سکتی ۔ پس جبکہ اس پیشگوئی کا میعاد کے اندر پورا ہو جانا اور عبد الحق کی زندگی میں ہی اس کا ظہور میں آنا میری عزت کا موجب ہوا تو بلا شبہ محمد حسین اور اس کے گروہ جعفر زٹلی وغیرہ کی ذلت کا موجب ہوا ہو گا یہ اور بات ہے کہ یہ لوگ ہر ایک بات میں اور ہر ایک موقعہ پر یہ کہتے رہیں کہ