ستارہ قیصرہ — Page 326
روحانی خزائن جلد ۱۵ ☆ ۳۲۶ تریاق القلوب ☆ ناخنوں تک زور لگایا گیا ہے اِس ارادہ میں مخالف ناکام رہیں گے اور آخر تم سلامت بیچ کر چلے آؤ گے۔ اس جگہ بریت کا لفظ ہی نہیں ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ یہ ظالم شیخ جو حد سے بڑھ گیا ہے اس پیشگوئی کے چھپانے کے لئے بھی بریت کے لفظ میں بیہودہ جھگڑا کرے گا۔ سو اُس نے اِس پیشگوئی میں بریت کا لفظ نہ کہا بلکہ بجائے اس کے سلام کا لفظ رکھ دیا۔ اب غور سے دیکھو کہ اگر چہ اس مخالفت میں قرآن شریف محمد حسین کو سراسر کا ذب اور خائن ٹھہراتا ہے اہے اور اس مقدمہ میں جس بنا پر کہ میں چھوڑا گیا ہوں میرا نام بری رکھتا ہے مگر باوجو دایسی کھلی کھلی فتح کے اگر فرض محال کے طور پر یہ مان بھی لیں کہ شیخ محمد حسین اس مقدمہ میں مجھے بری نہ قرار دینے میں سچا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ صریح جھوٹا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے اصل مقصود سے بے نصیب ہے ۔ کیونکہ پیشگوئی میں جس کو ہر ایک شخص حقیقت المہدی کے صفحہ ۱۲ اور سطر ۱۱ میں پڑھ سکتا ہے بری کا لفظ موجود نہیں ہے بلکہ سلام کا لفظ ہے جو عزت اور جان کے سلامت رہنے پر دلالت کرتا ہے۔ میں محمد حسین کو کچھ الزام نہیں دیتا اور نہ مجھے کچھ ضرورت ہے کہ اس کو کا ذب اور خائن کہوں مگر خدا تعالیٰ کا کلام قرآن شریف جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتا ہے اس کو کا ذب اور خائن ٹھہراتا ہے ۔ کا ذب اس لئے کہ خدا تعالیٰ اس صورت کے مقدمہ میں جیسا کہ یہ مقدمہ ہے جس بنا پر کہ فیصلہ پا یا شخص رہا شدہ کا نام بری رکھتا ہے اور محمد حسین اس نام کی نفی کرتا ہے سو محمد حسین اگر چاہے تو آپ اقرار کر سکتا ہے کہ ہر ایک شخص جو قرآن کے بیان کے مخالف کچھ بیان کرے وہ کا ذب ہے اور خائن اس لئے ہے کہ محمد حسین نے مولوی اور اہل علم کہلا کر ایک کھلے کھلے حق کو چھپایا ہے اور اس سے بڑھ کر اور کوئی خیانت نہیں کہ جس حق الامر کو خود قرآن ظاہر کر چکا ہے اس کو چھپایا جائے ۔ منہ