ستارہ قیصرہ — Page 320
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۲۰ تریاق القلوب بذریعہ قوی شہادتوں کے عفت اور صفائی ثابت ہونی چاہیے ۔ شرم ! شرم ! شرم ! سو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اس کا ضرور جواب دیں اور اُن کے دوستوں کو بھی اُسی ذات پاک کی قسم دیتا ہوں کہ اُن سے ضرور جواب لیں۔ تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد ۔ اور دوسری قسم بری کی جس میں شخص ملزم اپنی یا کدامنی کا ثبوت دیتا ہے اُس کا نام قرآن شریف میں مُبرّء رکھا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔ أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۔ اب مومنوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس بحث میں خدا تعالیٰ کے فیصلہ کو منظور کرے۔ اور اگر نہیں کرے گا تو وہ اس آیت کے نیچے آئے گا جو قرآن شریف کی جزو پانچ سورۃ النساء میں ہے اور وہ یہ ہے۔ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا کے یعنی اے پیغمبر تمہار یعنی اے پیغمبر تمہارے ہی پر وردگار کی قسم ہے کہ جب تک یہ لوگ اپنے باہمی جھگڑے تم ہی سے فیصلہ نہ کرائیں اور صرف فیصلہ ہی نہیں بلکہ جو کچھ تم فیصلہ کر دو اس سے کسی طرح دلگیر بھی نہ ہوں بلکہ کمال اطاعت اور دلی رضا مندی اور شرح صدر سے اس کو قبول کر لیں تب تک یہ لوگ ایمان سے بے بہرہ ہیں ۔ اب فرمائیے شیخ جی ! قرآن کریم کیا کہتا ہے ۔ مسٹر ڈوئی صاحب کے فیصلہ کے رو سے جو عدم ثبوت جرم کی بنا پر کیا گیا ہے میرا نام قرآن کریم نے بری رکھا ہے یا نہیں ؟ اور کیا آپ کو یہ قرآنی فیصلہ منظور ہے یا نہیں ؟ افسوس کہ یہ تمام ندامتیں تعصب اور دروغ گوئی کی شامت سے آپ کو پیش آرہی ہیں ۔ پہلے اس سے آپ نے عجب کے صلہ میں بحث کر کے اور اس بات پر ضد کر کے کہ عجب کا صلہ صرف من آتا ہے لام نہیں آتا ۔ کیسی سخت ندامت اُٹھائی تھی ۔ اگر آپ اُسی وقت کان کو ہاتھ ا النور : ۲۷ ا النساء: ٦٦