ستارہ قیصرہ — Page 318
۸۳ روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۱۸ تریاق القلوب جس پر وہ گناہ ثابت نہیں ہے بلکہ اُسی کی نسبت گناہ ہو جس نے اپنی پاکدامنی پر عدالت میں گواہ دے دیئے ہوں اور اپنا بے قصور ہونا بپا یہ ثبوت پہنچا دیا ہو اور یہ معنے با تفاق تمام گروہ اسلام باطل ہیں ۔ اسی وجہ سے تمام علماء اسلام کے نزدیک ایسے شخص بھی اس آیت کے مواخذہ کے نیچے ہیں جو مستور الحال عورتوں پر زنا کا الزام لگا ویں اور گو ان عورتوں کے اعمال مخفی ہوں مگر اس آیت میں اُن کا نام بری رکھا کیونکہ شرعی طور پر ان پر جرم کا ثبوت نہیں ۔ پس اس نص قرآنی سے ثابت ہوا کہ جس پر شرعی طور پر جرم کا ثبوت نہ ہو وہ بری ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ عرب کی زبان بھی اس کا نام بری رکھتی ہے کیونکہ قرآن سے بڑھ کر محاورات عرب کے جاننے کے لئے اور کوئی ذریعہ نہیں ۔ اور اسی آیت کے مفہوم کی موید قرآن شریف کی وہ آیت ہے جو جزء اٹھارہ سورۃ النور کی تیسری آیت ہے اور وہ یہ ہے۔ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمْنِيْنَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ ، یعنی جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں اور اس تہمت کے ثابت کرنے کے لئے چار گواہ نہ لاسکیں تو ان کو اسی ڈڑے مارو اور آئندہ کبھی اُن کی گواہی قبول نہ کرو اور یہ لوگ آپ ہی بدکار ہیں ۔ اس جگہ محصنات کے لفظ کے وہی معنے ہیں جو آیت گذشتہ میں بری کے لفظ کے معنے ہیں ۔ اب اگر بموجب قول مولوی محمد حسین ایڈیٹر اشاعة السنه کے بری کے لفظ کا مصداق صرف وہ شخص ہو سکا وہ شخص ہو سکتا ہے کہ جس پر اول فرد قرارداد جرم لگائی جاوے اور پھر گواہوں کی شہادت سے اس کی صفائی ثابت ہو جائے اور استغاثہ کا ثبوت ڈیفنس کے ثبوت سے ٹوٹ جائے تو اس صورت میں یعنی اگر بری کے لفظ میں جو آیت ثُمَّ يَرْمِ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ” پانچویں “ ہونا چاہیے۔(ناشر) ا النور : ۵