ستارہ قیصرہ — Page 297
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷ ۲۹۷ تریاق القلوب کوئی کسی کے لئے اپنا ایمان ضائع نہیں کر سکتا۔ ان سے حلفاً پوچھو کہ کیا جیسا کہ لکھا گیا ایسا ہی پیشگوئی ظہور میں آئی تھی یا نہیں؟ اب برائے خدا یہ بھی ذرہ سوچو کہ کیا اس کثرت اور صفائی سے غیب کا علم اور وہ علم جو بموجب توریت اور قرآن کے سچے نبیوں اور مامورین کی نشانی ہے وہ کسی مفتری اور کاذب کو مل سکتا ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جس کثرت اور صفائی سے غیب کا علم حضرت جلّ شانہ نے اپنے ارادہ خاص سے مجھے عنایت فرمایا ہے اگر دنیا میں اس کثرت تعداد اور انکشاف تام کے لحاظ سے کوئی اور بھی میرے ساتھ شریک ہے تو میں جھوٹا ہوں لیکن اگر اس کثرت اور انکشاف تام کے رو سے کوئی اور میرے ساتھ شریک ثابت نہیں ہو سکتا تو پھر میرے دعوے سے انکار کرنا سخت ظلم ہے۔ عرصہ قریباً بیس برس کا گذرا ہے کہ ایک دفعہ کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ ایک شخص مسلمانوں میں سے یہ فتنہ برپا کرے گا کہ میری تکفیر کا فتویٰ لکھا کر ملک میں پھیلائے گا اور قریباً اس ملک کے تمام مولویوں کو اس خطا سے آلودہ کرے گا اور یہ تمام بوجھ اس کی گردن پر ہوگا۔ چنانچہ وہ الہام جو اس بارے میں ہوا وہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۰ اور ۵۱۱ میں اس طرح پر مندرج ہے:۔ اذ يمكر بك الذي كفّر ۔ او قدلي يا هامان لعلى اطلع على اله مُوسى واني لأ ظنه من الكاذبين ۔ تبت يدا أبي لهب و تب ۔ ما كان له ان يدخل فيها الا خائفا ۔ وما اصابك فمن الله الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولو العزم۔ الا انها فتنة من الله ليحب حبا جما ۔ حبا من الله العزيز الاكرم۔ عطاء ا غير مجذوذ۔ ترجمہ ۔ اس شخص کے مکر کو یاد کر جو تیرے ایمان کا منکر ہوا اور تجھے