ستارہ قیصرہ — Page 212
تریاق القلوب ۲۱۲ روحانی خزائن جلد ۱۵ متوجہ ہوں کیونکہ مجھے دکھلایا گیا ہے کہ آپ کی زندگی کے دن تھوڑے ہیں ۔ انہوں نے عام گھر والوں کو اس سے اطلاع دے دی اور پھر چند ہفتہ میں ہی اس جہان فانی سے گزرے۔ اس واقعہ کے گواہ بھی کئی مرد اور عورتیں موجود ہیں جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں بلکہ جس وقت میرا بھائی فوت ہوا تو میرا امرتسر کا خط اُن کے صندوق میں سے نکلا۔ ایک مرتبہ میرے ایک مخلص دوست جو ہمارے سلسلہ کے نہایت درجہ حامی اور صادق الاخلاص ہیں۔ جنہوں نے اپنے نفس پر فرض کر رکھا ہے کہ ایک سو روپیہ ماہواری اس سلسلہ کی امداد کے لئے بھیجا کریں جن کا نام سیٹھ عبد الرحمن حاجی اللہ رکھا ہے جو تاجر مدراس ہیں۔ کسی اپنی تشویش میں دعا کے خواستگار ہوئے اور ان کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا۔ قادر ہے وہ بارگہ ٹوٹا کام بنا وے بنا بنایا تو ڑ دے کوئی اُس کا بھید نہ پاوے یہ ایک بشارت اُن کا غم دور کرنے کے بارے میں تھی۔ چنانچہ چند ہفتہ کے بعد ہی خدا تعالیٰ نے ان کو اُس پیش آمدہ غم سے رہائی بخشی۔ سیٹھ صاحب بفضلہ تعالی مدراس میں زندہ موجود ہیں وہ اس واقعہ کی تصدیق کر سکتے ہیں لیکن حلف نمونہ نمبر ۲ کے مطابق ہوگی ۔ ایک لدھیانہ کے متعصب مگر سخت جاہل سعد اللہ نام نے جو ہندوؤں میں سے نیا مسلمان ہوا تھا میرے پر یہ اعتراض کیا تھا کہ امرتسر کے مباحثہ میں جو عیسائیوں کے ساتھ ۱۸۹۳ء میں ہوا تھا اس کا نتیجہ بعد میں یہ ہوا کہ اخویم حبی فی الله مولوی حکیم نوردین صاحب کا شیر خوار لڑ کا بقضاء الہی فوت ہو گیا ۔ اس قابل شرم اعتراض سے اصل غرض اُس بے حیا کمینہ طبع کی جوا کا بر اسلام کے بچوں کے مرنے سے خوش ہوتا ہے یہ تھی کہ دین اسلام جھوٹا ہے اور عیسائی مذہب سچا۔ اس لئے میں نے دعا کی کہ خدا اس ۱۹ ۲۰