سرّالخلافة — Page 230
۳۷ روحانی خزائن جلد ۸ ۲۳۰ نور الحق الحصة الثانية وحكمته التي ترى اللطف والجمال أن يعلم الناس عند كسوف طرقًا اور اس کی پر لطف حکمت تقاضا کرتی ہے جو کسی کسوف کے وقت لوگوں کو وہ طریقے سکھلاوے جو کسوف کے هي تدفع موجباته وتزيل سيئاته، فعلمهم هذه الطرق على لسان خير موجبات کو دور کر دیں اور اس کی بدیوں کو ہٹا دیں پس اس نے اپنے نبی کی زبان پر یہ تمام طریقے سکھلا دیئے۔ المرسلين۔ ولا شك أن الحسنات يذهبن السيئات، وتطفى نيرانا اور کچھ شک نہیں کہ بدیاں نیکیوں سے دور ہوتی ہیں اور گناہ کی معافی چاہنے والوں کے آنسو آگ کو بجھا دیتے ہیں۔ دموع المستغفرين۔ وإذا عمل عبد عملا صالحا بإمحاض النية اور جس وقت کوئی بندہ کوئی نیک عمل کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اس سے راضی کر دیتا ہے وكمال الطاعة، وأرضى به ربه بتحمل الأذية، فيعارض هذا العمل پس وہ نیک عمل اس کی بدی کا مقابلہ کرتا ہے جس کے اسباب مہیا ہو گئے ہیں الذي كَسَبَه الشر الذي انعقد سببه، فيجعله الله من المحفوظين۔ وهذا پس خدا تعالیٰ اس عامل کو اس بدی سے بچا لیتا ہے۔ اور یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ دعا کے ساتھ من سنة الله أن الدعاء يردّ البلاء ، ولا يلتقى دعاء وبلاء إلا وإن الدعاء بلا کو رد کرتا ہے اور دعا اور بلا کبھی دونوں جمع نہیں ہوتیں مگر دعا باذن الہی بلا پر غالب آتی ہے جب يغلب بإذن الله إذا ما خرج من شفتي الأوابين، فطوبى للداعين۔ ایسے لبوں سے نکلتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں سو دعا کرنے والوں کو خوشخبری ہو۔ وإذا كان كسوف أحد من الشمس والقمر دالا على آفات الزمان، اور جبکہ ایک گرہن ہی اس قدر آفتوں پر دلالت کرتا ہے تو اس زمانہ کا کیا حال جس میں ومُوجِبَ أنواع البلايا والخُسران، فما بال زمان اجتمع فيه كسوفان، فاتقوا دونوں گرہن جمع ہو گئے ہوں سو خدائے تعالی سے ڈرو الله يا معشر الإخوان، ولا تكونوا من الغافلين۔ لا يقال إن النيرين ينكسفان کہنا بے جا ہے کہ سورج گرہن اور چاند گرہن اور غافل مت ہو۔ یہ