سرّالخلافة — Page 210
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۱۰ نور الحق الحصة الثانية ومن ههنا بان أن الذي خالف هذا البيان، وزعم أن الشمس تنكسف في میں سے مت ہو اور اس جگہ سے یہ بات کھل گئی کہ جس شخص نے اس کے مخالف بیان کیا ہے اور ایسا سمجھا کہ حدیث کا یہ السابع والعشرين أو في نصف رمضان فقد مان، وما فهم قول رسول الله صلعم مطلب ہے کہ سورج گرہن ستائیسویں تاریخ میں ہو یا پندرھویں رمضان میں ہو اس نے بڑی غلطی کھائی ہے اور جھوٹ وما مس العرفان، بل أخطأ فيه من قلة البضاعة والعيلة، كما أخطأ في الخسوف بولا ہے اور آنحضرت صلعم کی حدیث کا مطلب نہیں سمجھا بلکہ اپنی کم بضاعتی کے سبب سے غلطی کی ہے جیسا کہ خسوف قمر کو في أول الليلة، وما كان من المصيبين۔ وما قلتُ من نفسي بل هذا إلهام من ربّ چاند کی اول رات قرار دینے میں غلطی کی اور صواب پر قائم نہ رہا اور یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہا بلکہ خدا تعالیٰ کے الہام العالمين۔ وذلك عصر مجموع فيه الناس كما جمع القمر والشمس وقرب سے کہا ہے۔ اور یہ وہ زمانہ ہے جس میں سب آدمی جمع کئے جائیں گے جیسا کہ سورج اور چاند جمع کئے گئے اور سختی کا وقت البأس، فقوموا متتبّهين أيها الأناس۔ ما لكم لا يترككم النعاس؟ ومن كان من عند نزدیک کیا گیا۔ پس اے لوگو خبر دار ہو کر اٹھو کیا سبب کہ تمہیں نیند نہیں چھوڑتی اور جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو تو اس الله فما له الزوال، فامكروا كل المكر ولن تزول منكم الجبال، ولن تُعجزوا کے لئے زوال نہیں ہے۔ پس تم ہر یک مکر کر لو اور تمہارے مکروں سے پہاڑ دور نہیں ہو سکتے اور تم اسے گمراہی کے بیٹو الله يا أبناء الضلال۔ إنه عزيز ذو الجلال، جعل على قلوبكم أكنة فلا تفقهون خدا تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے وہ غالب اور صاحب بزرگی ہے تمہارے دلوں پر اس نے پردے ڈال دیئے اس لئے تم اس أسراره، وكنتم قـومـا مـحـجـوبين۔ إنما استزلكم الشيطان ببعض ما کے بھیدوں کو سمجھ نہیں سکتے اور تم ایک ایسی قوم ہو گئے جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں شیطان نے تم کو تمہارے بعض كسبتم، فما فهمتم الحق وارتبتم وطفقتم تتبعون بئس القرين۔ وإن كنتم گناہوں کی وجہ سے گراد یا سوتم نے حق کو نہ سمجھا اور شک میں پڑ گئے اور شیطان کی پیروی کرنے لگے۔ اور جو امر ثابت اور لا تقبلون ما ظهر كمنكر وقيح، وتظنون أنه حديث غير صحيح، ظاہر ہو گیا تم اس کو ایک بے حیا کی طرح قبول نہیں کرتے اور خیال کرتے ہو کہ وہ حدیث صحیح نہیں ہے