سرّالخلافة — Page 164
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۶۴ لعنة الله والملائكة والناس أجمعين۔ نور الحق الحصة الاولى میں کہہ چکے ہیں اور اس پر خدا تعالیٰ کی لعنت اور نیز اس کے تمام فرشتوں اور آدمیوں کی ہے۔ فَلْيَقُلُ القَوْمُ كلُّهم آمين آمين آمين۔ پس چاہیے کہ ساری قوم کہے آمین آمین آمین (۱۳) القصيدة في فضائل القرآن وشأن كتاب الله الرحمن قصیدہ قرآن کے فضائل اور کتاب اللہ کی شان میں لَمَّا أَرَى الفرقانُ مِي سَمَةَ تردّى مَن طَغَى مَن كان نابع وقته جاء المواطن الثغا جب قرآن نے اپنی شکل دکھلائی تو ہر ایک طاغی نیچے گر گیا جو شخص اپنے وقت کا فصیح اور جلد گو تھا وہ گند زبان ہو کر میدان میں آیا وإذا أرى وجها بِأَن وَارِ الجَمال مصَبَّعًا فَدَرَى المعارض أنه ألغا الفصاحة أو لغا تو معارض سمجھ گیا کہ وہ قرآن کے معارضہ میں فصاحت بلاغت سے دور اور جب قرآن نے اپنا ایسا چہرہ دکھا یا جوانوار جمال سے رنگین تھا ہے اور لغو بک رہا ہے من كان ذا عين النهي فإلى محاسنه صغى إلا الذى من جهله أبغى الضلالة أو بغى جو شخص عقلمند تھا وہ قرآن کے محاسن کی طرف مائل ہو گیا ہاں وہ باقی رہا جو گمراہی کا مددگار بنا اور ظلم اختیار کیا عين المعارف كلها آتاه حِبُّ مُبتغى لا يُنبئن ببحره الذي ذخار كلبًا مولغا تمام معارف کا چشمہ خدا تعالیٰ نے قرآن کو دیا اور اس کے بحر ز خار سے اس کتے کو خر نہیں دی جاتی جس کو تھوڑا سا پانی پلایا جاتا ہے اقْبَلُ عيون علومه أو أعرِضَنُ مُستولغا واتبع هداه أَوِ اعْصِه إن كنتَ مُلْغَى مُتغا اس کے علموں کے چشمے قبول کر یا بے حیا بیباک کی طرح کنارہ کر اور سی کی ہدایت کا فرمانبردارہوجایا تو تی تی گواور میں تباہ کرنے والا ہے تو نا فرمان بن جا ما غادر القرآن في الـ ميدان شابًا بُرُزَغا قتل العِدا رعبًا وإن بارى العدوّ مُسبغا قرآن نے میدان میں کسی ایسے جوان کو نہ چھوڑا جو جوانی میں بھرا ہوا تھا دشمنوں کو اپنے رعب سے قتل کیا اگر چہ دشمن زرہ پہن کر آیا قد أنكروا جهلا وما بلغوه علمًا مَبْلَغَا حَتَّى انثنوا كالخائبين وأضرموا نار الوغى مخالفوں نے جہل سے انکار کیا اور اس کے مقام بلند تک ان کا علم نہ پہنچ سکا یہاں تک کہ مقابلہ سے نومید ہو گئے اور جنگ کی آگ کو بھڑکایا