سرّالخلافة — Page 145
روحانی خزائن جلد ۸ الله نور الحق الحصة الأولى أساليب لسان العرب وطرق بلاغة المقال؟ بل أظن أنك لا تعرف تجھے کچھ بھی خبر نہیں کہ لسان عرب کے اسلوب کیا ہیں اور بلاغت کی راہیں کون سی ہیں بلکہ میں گمان کرتا ہوں کہ تو حرفا من العربية، فكيف اجترأت على هذه الغذمرة الكريهة؟ أتصول عربی کا ایک حرف بھی نہیں جانتا۔ پس کیونکر تو نے اس آواز مکروہ پر جرات کی أيها الجاهل الكاهل على الذي أفحم أكابر بلغاء الزمان، وأتم الحجة | اے جاہل کاہل کیا تو اس کلام پر حملہ کرتا ہے جس نے بڑے بڑے بلغاء زمانہ کو ساکت کر دیا اور على فصحاء أهل اللسان، وخضعت له أعناق الأدباء ، وآمن به نوابغ زمانہ کے مشہور فصیحوں پر اپنی حجت پوری کی اور ادیبوں کی گردنیں اس کی طرف جھک گئیں اور شعراء میں بڑے بڑے نابغہ الشعراء ، وجاء وا خاضعين مقرّين؟ أأنت أسبق منهم في معرفة مواد اس پر ایمان لائے اور اقراری اور فروتن بن کر اس کی طرف رجوع کر لیا کیا زبان شناسی میں تو ان سے بڑھا ہوا ہے الأقاويل وتمييز الصحيح من العليل، أو أنت من المجنونين؟ ألا تعلم اور صحیح اور غیر صحیح میں فرق کرنے میں تو زیادہ طاقت رکھتا ہے یا تو دیوانہ ہے ۔ کیا تجھے خبر نہیں کہ أنهم كانوا أهل اللسان، وقد غُدُّوا بلبان البيان، وكان يُصبون القلوب وہ لوگ اہل زبان تھے اور خوش تقریری کے دودھ سے پرورش یافتہ تھے اور رنگا رنگ کی عبارات بأفانين العبارات وملح الأدب ونوادر الإشارات، وكانوا في هذه اور عجیب اشارات سے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے تھے اور ان کوچوں میں السكك و علم مـحـاسـنـهـا من الماهرين؟ ألست تعلم أن القرآن ما | اور علم محاسن بیان میں ماہر تھے۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ قرآن نے ادعى إعجاز البلاغة إلا فى الرياغة، فإن العرب في زمانه كانوا فصحاء اعجاز بلاغت کا دعوی کشتی گاہ کے میدان میں کیا ہے کیونکہ عرب اس کے زمانہ میں العصر وبلغاء الدهـر، وكـان مـدار تـفـاخـرهم على غُرر البيان ١٠٩) فصحاء عصر اور بلغاء دہر تھے اور ان کے باہم فخر کرنے کا مدار فصیح اور با آب و تاب تقریروں پر تھا