سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 512

سرّالخلافة — Page 140

روحانی خزائن جلد ۸ ☆ ۱۴۰ ا حاشيه الحاشيه متعلق صفحه ۱۰۵ نور الحق الحصة الاولى نور الحق الحصة الأولى وہ و انا نرى ان نكتب ههنا بعض المقالات اهل الأراء وأراء اهل الدهاء اور ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس جگہ بعض اہل الرائے کے کلمات لکھیں في تصانيف عماد الدين فنكتبها بعباراتهم الاصلية في اللسان الهندية | جو انہوں نے پادری عماد الدین کی تصانیف کے بارے میں تحریر فرمائے ہیں اعنی اردو ناقلين من رسالة عقوبة الضالين المطبوعة في نصرة المطابع | سو ہم انہیں کی عبارات نقل کر دیتے ہیں جو رسالہ عقوبة الضالين مطبوعه نصرة المطابع دهلي في ردّ هداية المسلمين وهو هذا يا معشر المنصفين۔ دہلی میں درج ہیں اور عقوبة الضالین وہ رسالہ ہے جو ایک صاحب نے رڈ ھدایت المسلمین میں لکھا ہے اور وہ یہ ہے:۔ رائے ہندو پر کاش امرتسر و آفتاب پنجاب لاہور کہ ان دونوں اخباروں کے مالک اہل ہنود ہیں چونکہ پادری عماد الدین صاحب امرتسر میں پادری کا کام کرتے ہیں وہیں کے اخبار ہندو پرکاش جلد ۲ نمبر ۲۴ مطبوعہ ۱۲۔ اکتوبر ۱۸۷۴ء صفحہ ۰ اواا میں جو امرت سر کے اہل ہنود کی طرف سے جاری ہے لکھا ہے کہ کیا پادری عماد الدین کی تصنیفات تاریخ محمدی و غیره ( وغیرہ سے مراد هداية | المسلمین ) کچھ اس کتاب سے شورش انگیزی میں کم تر تھیں کہ جس نے بمبئی کے مسلمانوں اور پارسیوں کے صد ہا سالہ اتفاق اور محبت کو نفاق اور عداوت سے مبدل کر دیا اور دونوں کو یک لخت ہلاکت کا منہ دکھایا یہاں پادری صاحب کی تصانیف یعنی تاریخ محمدی اور هداية المسلمين اور تفسیر مکاشفات امن عامہ کی خلل اندازی میں کس لئے ناکام رہیں پنجابی مسلمان مفلس کم ہمت اور اکثر جاہل ہیں یا وہ اُن کو سمجھتے نہیں اور صرف مسلمانوں کا انگریزی گورنمنٹ سے دل پھاڑنے کی علت غائی پر تصنیف کی گئی ہیں۔ اگر بفرض محال وہ سارے الزامات سچے بھی سمجھے جاویں تاہم بے چارے پادری صاحب کے کام تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۹۴ کے اعتراض سے محفوظ نہیں کیونکہ اس میں ہر ایسے فعل کا رفاہ عامہ کی نیت سے ہونا مستثنی کے لئے مشروط ہے۔ مندرجہ بالا فقرے ہم نے اخبار آفتاب پنجاب جلد ۲ نمبر ۳۹ سے انتخاب کئے ہیں جس بنا پر اخبار مذکور کے ایڈیٹر صاحب نے د روحانی خزائن جلد هذا کا صفحہ ۱۳۹