سرّالخلافة — Page 128
روحانی خزائن جلد ۸ مامور ہوں ۱۲۸ نور الحق الحصة الأولى يا من تظنّى البول ماءً باردًا أخطأت من جهل بِاسْتِسْمانهم اے وہ شخص جس نے بول کو ٹھنڈا پانی سمجھ لیا تو نے اپنی نادانی سے خطا کی اور لاغروں کو موٹا خیال کیا يا رب أرنى يوم كسر صليبهم يارب سلطنى على جدرانهم اے میرے رب صلیب کا ٹوٹنا مجھے دکھلا اے میرے رب ان کی دیواروں پر مجھ کو مسلط کر ۹) فإذا تكلمنا فسيفٌ قولنا رمح مبيد لا كمثل بيانهم اور جب ہم کلام کریں تو ہماری کلام ایک تلوار ہے ایک نیزہ ہلاک کرنے والا ہے نہ ان کے بیان کی طرح ولقد أمرت من المهيمن بعدما هاجت دخان الفتن من نيرانهم اور میں خدا کی طرف سے اس وقت کے بعد جو پادریوں کی آگ سے دھوئیں اٹھے ما قلت بل قال المهيمن هكذا ما جئتهم بل جاء وقت هوانهم یہ میں نے نہیں کہا بلکہ خدا تعالیٰ نے اسی طرح کہا میں ان کے پاس نہیں آیا بلکہ ان کی ذلت کا وقت آ گیا طورًا أحارب بالسهام وتارةً أهوى بأسياف إلى إثخانهم کبھی میں ان سے تیروں کے ساتھ جنگ کرتا ہوں اور کبھی میں اپنی تلواروں کے ساتھ ان کے قتل کثیر کی طرف توجہ کرتا ہوں بمهند صاف الحديد جذمتهم وعصاى قد أفنَتْ قُوَى ثعبانهم نہایت عمدہ تلوار سے میں نے ان کو کاٹ دیا ہے اور میرے عصا نے ان کے سانپ کی تمام قوتیں فنا کر دیں روحي بروح الأنبياء مضمخ جادت على الجود من فيضانهم میرا روح انبیاء کی روح سے معطر کیا گیا ہے اور ان کے فیضان کا ایک بڑا مینہ میرے پر برسا إنا نرجع صوتنا بغنائهم إنّا سُقينا من كؤوس دنانهم ہم انہیں کے گیت کو سُروں کے ساتھ گاتے ہیں ہم انہیں کے پیالوں میں سے پلائے گئے ہیں قوم فنوا في سبل مربع ربِّهم والعُمـى لا يدرون مطلع شأنهم وہ ایک قوم ہے جو خدا کی راہ میں فنا ہوگئی اور اندھے ان کی شان کے مطلع کو نہیں دیکھتے كم من شرير أهلكوا بعنادهم ورأوا مدى نحر وراء كبانهم بہت شریر ہیں جو بوجہ ان کے عناد کے ہلاک کئے گئے اور اپنی بیماری کے بعد ذبح کرنے کی کار دیں انہوں نے دیکھ لیں