سرّالخلافة — Page 124
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۲۴ نور الحق الحصة الأولى وجہ سے رہی ہے نشكو إلى الرحمن شرَّ زمانهم ونعوذ بالقدوس من شيطانهم ہم ان کے زمانے کے شر سے خدا تعالیٰ کی طرف شکایت لے جاتے ہیں اور ان کے شیطان سے پاک پروردگار کی پناہ میں آتے ہیں هل من صدوق يُوجدَنُ في قومهم أم هل عرفت الصدق في بلدانهم کیا کوئی راستباز ان کی قوم میں پایا جاتا ہے یا تو نے شناخت کیا کہ ان کے شہروں میں سچائی بھی ہے هم يعبدون الآدمي كمثلهم هم ينشرون الفسق في أوطانهم وہ اپنے جیسے آدمی کی پرستش کر رہے ہیں وہ اپنے وطنوں میں بدکاری کو پھیلاتے ہیں الماكرون الكائدون من الهوى والزور كالأثمار في أغصانهم حرص کی مکار اور فریبی ہیں اور ان کی شاخوں میں جھوٹ پھلوں کی طرح موجود ہے العين باكية على حالاتهم للعقل حسرات على هذيانهم آنکھ ان کے حالات پر رو اور عقل کو ان کے بکواس پر حسرتیں ہیں مكر على مكر خيال قلوبهم كذب على كذب بيان لسانهم ان کے دلوں کے خیال مکر پر مکر ہے إني أراهم كالبنين لِغُولِهم إن التطهر لا تـحـل بـخـانـهـم میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے ابلیس کے لئے بطور بیٹوں کے ہیں اور پاکیزگی ان کے کاروان سرائے میں نہیں اترتی كيف الرجاء وقد تأبط قلبهم شرا أراه دخيل جَذر جنانهم کیونر امید کریں حالانکہ ان کے دل شرارت کو اپنی بغل میں لئے بیٹھے ہیں اور وہ شرارت ان کے دلوں کے اندر گھسی ہوئی ہے بل كذبوا بالحق لما جاءهم وتمايلوا حقدًا على بهتانهم بلکہ جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے تکذیب کی اور کینہ سے اپنے بہتانوں کی طرف جھک پڑے كم من سموم هب عند ظهورهم كم من جهول صيد مِن أرسانهم ان کے ظاہر ہونے سے بہت سی گرم ہوائیں چلی ہیں اور ان کی رسیوں سے بہت جاہل شکار ہو گئے ۹۳) هم أنكروا بحر العلوم بخبثهم واستغزروا ما كان في كيزانهم انہوں نے اپنے خبث سے علموں کے دریا سے انکار کیا اور جو کچھ ان کے پیالوں میں تھا ان کو بہت کچھ سمجھا اور ان کی زبان کا بیان جھوٹ پر جھوٹ ہے