سرّالخلافة — Page 105
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۰۵ نور الحق الحصة الأولى وصليبان لا يقال إن الابن كان واحدا فرضى ليُصلب لنوع الإنسان، تب پورا ہوسکتا ہے کہ جب دو بیٹوں کو پھانسی دیا جاتا یہ بات کہنے کے لائق نہیں کہ بیٹا تو صرف ایک وما كان ابن آخر لكفّارة أبناء الجان ۔ لأنا نقول في جوابه إن الأب ہی تھا وہ اسی پر راضی تھا کہ وہ فقط نوع انسان کے لئے پھانسی دیا جاوے کوئی دوسرا بیٹا تو نہیں تھا کہ تا جنوں کے لئے كان قادرا على أن يلد ابنا آخر، وما كان كالعاجز الحيران، فلا ريب پھانسی دیا جاتا کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ باپ اس بات پر قادر تھا کہ اس بات کے لئے کوئی اور بیٹا جنے جیسا کہ اس نے پہلا بیٹا أنه ترك الجنَّ عمدًا أو من النسيان، أو ما صلب ابنا ثانيًا مخافةَ بَترِه جنا پس کچھ شک نہیں کہ اس نے جنوں کے گروہ کو عمداً عذاب ابدی میں چھوڑا اور محض بخل کی راہ سے ان کے لئے کوئی كالجبان۔ ومن المحتمل أن يكون الابن الآخر أحب من الابن الأول پھانسی پر نہ لٹکایا اور یہی گمان ہوسکتا ہے کہ چھوٹا بیٹا بڑے بیٹے سے زیادہ پیارا ہو اور یہ کچھ تعجب کی بات إلى الأب التوقان، وهذا ليس بعجيب عند ذوى الأذهان، فإنه قد نہیں کیونکہ کبھی بھی يتفق أن الأصغر من الأبناء يكون أحبّ إلى الآباء ۔ ففكّر في هذه چھوٹا بڑے سے باپ کو زیادہ زیادہ پیارا ہوتا ہے پس اس بات میں فکر کر الآراء ، وفي إله هو ذو بـنـات وبـنـيـن۔ وسبحان ربنا عما يخرج من | کہ جس کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں اور ہمارا خدا ان باتوں سے پاک ہے جو ظالموں کے أفواه الظالمين۔ منہ سے نکلتی ہیں ۔ یہ اتفاق ہو جاتا ہے که ثم بعد ذلك نرى أن آدم كان أول أبناء الله في نوع الإنسان، (۷۹) پھر بعد اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ پہلا بیٹا تو نوع انسان میں سے آدم ہی تھا وقد أقرت أناجيل النصارى بهذا البيان، ومن المعلوم أن الفضل چنانچہ انجیلیں اس بات کا اقرار کرتی ہیں اور یہ تو معلوم ہے کہ بزرگی پہلے ہی کو ہوتی ہے اور وہ تو بزرگ نہیں