سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 246

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۴۴ ☆ حجة الله أتحسب أن القول قول الأجانب وقد صُبَّ من عينى كماء مُدَغْفِق کیا تو گمان کرتا ہے کہ یہ قول غیروں کا قول ہے حالانکہ یہ میرے چشمہ سے پانی ٹپکنے والے کی طرح گرایا گیا ہے فما هي إلا كلمة قيل مثلها فقالوا أعان عليه قوم كمُشْفِق پس یہ تو ایسا کلمہ ہے کہ پہلے ایسا کہا گیا ہے اور لوگوں نے کہا کہ اس کی دوسروں نے مدد کی ہے ففَكِّرُ أَتَعلَمُ مُنشئًا لى كتَمُتُه فيملوا القصائد لي بحجر التأبق اپس فکر کر کیا ایسا منشی تجھے معلوم ہے جو میں نے چھپا رکھا ہے پس وہ میرے لیے پوشیدہ بیٹھ کر قصیدہ لکھتا ہے اتنحتُ كذبًا ليس عندك شاهد عليه وتنبح كالكلاب وتَزْعَقِ کیا تو ایسا جھوٹ تراشتا ہے کہ اس پر تیرے پاس کوئی گواہ نہیں اور کتوں کی طرح بھونکتا اور فریاد کرتا ہے رضيت بحكاكات إبليس شقوةً وآثرت سبل الغي يا أيها الشقى شیطانی وساوس کے ساتھ تو راضی ہو گیا اور گمراہی کی راہیں اے شقی تو نے اختیار کیں أتنكر آياتي وقد شاهدتها أتعرض عن حق مبين مُزَوَّقِ کیا تو دیدہ و دانستہ میرے نشانوں سے اعراض کرتا ہے کیا تو کھلے کھلے اور آراستہ حق سے انکار کرتا ہے وقد مات "آتم " عمك المتنصّر وقد حق أن تُمحى لحاكم وتُحْلَقِ اور آتھم تیرا چا نصرانی مر گیا اور واجب ہوا کہ تمہاری داڑھیاں نابود کی جائیں اور منڈائی جائیں رأيتم جوازيكم من الله ربنا ومتم كموت المفسد المتخلق لو تم نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنی سزائیں دیکھ لیں اور تم اس طرح مر گئے جس طرح مفسد دروغ گو مرتا ہے وقد قطع ربي أنف الجمع كلّهم وأخزى العدا وأبادَ كُلًّا بمأزق اور میرے خدا نے تمام مخالفوں کی ناک کاٹ دی اور دشمنوں کو رسوا کیا اور سب کو میدان میں ہلاک کر دیا۔ تكنف قلبك صدا ظلماتِ الشقا فما إن أرى فيك الهداية تشرق تیرے دل پر انکار شقاوت محیط ہو گیا ہے پس میں نہیں دیکھتا کہ ہدایت تجھ میں چمکے وقد ضاع ما علمت إن كنتَ عالمًا كزُبُرٍ إذا حملت على ظهر زِهْلِقِ اگر تو عالم تھا تو تیرا سب علم برباد ہو گیا ان کتابوں کی طرح جبکہ گدھے پر لادی جائیں أراك ومن ضاهاک رَبرَبَ جهلةٍ تلا بعضُكم بعضا كأحمق أنزَق میں تجھے اور تیرے امثال کو جاہلوں کا ریوڑ دیکھتا ہوں بعض بعض کے پیچھے لگے جیسے نادان شتاب کار يبدو انه سهو والصحيح ” فیملی ۔ (ناشر)