سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 238 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 238

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۳۶ حجة الله اے شیخ شقی لقد ذاق منا قومنا غير مرّةٍ حُسامًا جراحته إلى الفرق ترتقى ہماری قوم نے بے شمار مرتبہ ہماری تلوار کا وہ مزہ چکھا ہے کہ جن کا زخم چوٹی تک پہنچتا ہے وإن كنت في شك فسَلُ شيخ فجرةٍ غويًّا غبيًّا في البطالة مُوبَقِ پس اگر تجھے شک ہے تو شیخ بطالوی کو پوچھ لے جو نبی اور غوی اور بطالت میں ہلاک کیا گیا ہے لكل امرء عزم لأمر، وعزمه إهانة دين الله فاذهَبُ وحَقِّقِ ہر یک شخص کسی امر کے واسطہ ایک قصد رکھتا ہے اور قصد اس شخص کا اہانت دین کی ہے جا اور تحقیق کرلے ألا أيها الشيخ الشقى تَعمَّق وفكّر كإنسان إلى ما تنهق سوچ اور انسان کی طرح فکر کر اور گدھے کی طرح آواز نہ کر أكفّرت قومًا مسلمين خباثة؟ ظلمتك جهلا فاتق الله وارفق کیا تو نے مسلمان کو از روئے خباثت کے کافر ٹھہرایا تو نے جہالت سے اپنے پر ظلم کیا پس ڈر اور نرمی کر وتقطع أيدى السارقين لدرنهم فقُل ما جزاء مكفّر ومفسق اور ایک درہم کیلئے چوروں کے ہاتھ کاٹے جاتے ہیں پس کہہ کہ کافر ٹھہرانے والے کی سزا کیا ہے صبرنا على طغواك فازددت شقوةً وخادعت أنعامًا بقول ملفّق ہم نے تیری زیادتی پر صبر کیا اور چارپایوں کو تو نے محض باتوں سے دھوکہ دیا و إن شئت بارزني وإن شئت فاستتر فإني سأمحو كل ما كنت تنمق اگر چاہے تو مقابلہ کر اور اگر چاہے تو چھپ جا پس میں ہر ایک جو تو نے لکھا تھا عنقریب محو کر دوں گا وجدتك من قوم لئام تأبطوا شرورًا وسبوا الصالحين كحذلق میں نے تجھ کو اس قوم میں سے پایا ہے جنہوں نے شرارتوں کو بغل میں اور صلحاء کو گالیاں دیں جیسے دروغگو لاف زن دیتے ہیں سببت وأغريت اللئام خباثةً على فآذوني ككلب يحرق تو نے گالیاں دیں اور بہت جاہلوں کو گالی کیلئے ترغیب دی پس انہوں نے مجھے کتے دانت پیسنے والے کی طرح تکلیف دی فأقسم لو لا خشية الله والحيا لأزمعتُ أَنْ أُفنيك سَبَّا وأدهَقِ پس میں قسم کھاتا ہوں کہ اگر خدا کا خوف اور حیا نہ ہوتا تو میں قصد کرتا کہ گالیوں سے تجھے فنا کر دیتا وقد ضاقت الدنيا عليك كما ترى ودينك هذا فاتق الله وارفق اور دنیا تجھ پر تنگ ہو گئی جیسا کہ تو دیکھتا ہے اور دین تیرا یہ ہے پس خدا سے ڈر اور نرمی کر