سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 236

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۳۴ حجة الله فإن جنحوا للسلم فالسلم ديننا وإن نُدْعَ في الهيجاء لَم نتأبق پس اگر صلح کے لئے جھکیں تو صلح ہمارا دین ہے اور اگر ہم لڑائی میں بلائے جائیں تو ہم پوشیدہ نہیں أراهم كآرام وعين بصورهم وإن القلوب كمثل حجرٍ مُدَمُلقِ میں ان کو بظاہر صورت ہرنیوں اور گاؤ دشتی کی طرح دیکھتا ہوں اور دل ان کے پتھر کی طرح سخت ہیں وإن تبغني في ندوة السلم تُلْفِنى وإن تَدْعُني في موطن الحرب تلتق اور اگر تو مجھے صلح کی مجلس میں بلائے گا تو مجھے وہاں پائے گا اور اگر تو مجھے جنگ کے میدان میں بلائے گا تو میں تجھے ملوں گا ونخضع للأعداء قبل خضوعهم ونرحل بعد الخصم من كل مأزق اور ہم دشمنوں کے لئے جھکتے ہیں قبل اس کے جو وہ جھکیں اور ہم میدان سے جب تک دشمن کوچ نہ کرے کوچ نہیں کرتے فإن أســلــمــوا خير لهم ولئن عصوا فنكلّمهم من بعده كالمشقَّق پس اگر اسلام لائے تو ان کے لئے بہتر ہے اور اگر نافرمان ہوئے پس ہم بعد اس کے ان کو ایسا مجروح کریں گے جیسا کہ کوئی پھاڑا جاتا ہے وقد جئتكم من نحو عشرين حِجَّةً ففكّر أهذا مدّة المتخلّق اور میں تمہارے پاس تخمیناً میں برس سے آیا ہوں پس سوچ کہ کیا یہ دروغ گو مدت ہے عجبت عماءً أن أكون ابن مريم وإن شاء ربى كنتُ أعلى وأسبق | تو نے نابینائی سے تعجب کیا کہ میں ابن مریم ہو جاؤں اور اگر خدا چاہے تو میں اس مرتبہ سے بھی برتر ہو جاؤں وتُذكِّرُ لَعْنَ الخَلق في أمر " آتم" وقد لُعِنَ الأبرار قبلى فَحَقِّقِ اور آتھم کے مقدمہ میں تو لوگوں کی لعنت کا ذکر کرتا ہے حالانکہ ہمیشہ پہلے اس سے نیکوں پر لعنت بھیجی گئی تو تحقیق کرلے وإن الورى عُمى يسبّون عُجُلةً فليس بشيء لعنهم يا ابن أحمق | اور لوگ اندھے ہیں جلدی سے گالیاں دینی شروع کر دیتے ہیں پس ان کا لعنت کرنا اے ابن احمق کچھ چیز نہیں ہے بل الله يُرجع لعن كُلّ مزوّر إليه فيُمسي بالملاعين مُلحق بلکہ خدا تعالیٰ ہر یک جھوٹے کی لعنت ایسے پر ڈالتا ہے پس وہ ایسی حالت میں شام کرتا ہے کہ ملعون ہوتا ہے فدع عنك ذكر اللعن يا صيد لعنة ألم تر ما لاقيت بعد التَلَقُلُقِ اے لعنت کے شکار لعنت کا ذکر چھوڑ دے کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بکو اس کے بعد تیرا کیا حال ہوا أتزعم يا مَن لَعَنَني بالجفاء أن تخلّص منى بل تُدَقِّ وتُسْحَقِ اے وہ شخص جو ظلم کے ساتھ مجھ پر لعنت کی کہ تو مجھ سے رہائی پا جائے گا بلکہ پیا جائے گا