سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 230
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۸ حجة الله ۸۰) جزى الله عنى مخلصى حين قرأها فصارت مضامين العدا كالممزق | میرے مخلص کو خدا جزائے خیر دے جبکہ اس نے وہ مضمون پڑھا پس دشمنوں کے مضمون پارہ پارہ ہو گئے وكان الأناس غداة يوم قيامه حراصًا إليه كمثل طفل لِبَلْعَقِ اور جس دن وہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو لوگ اس کی طرف ایسے حریص تھے جیسا کہ ایک بچہ عمدہ کھجور کیلئے وأخبرني من قبل ربّي بوحيه وقال سيعلوا ما كتبت ويبرق اور خدا نے پہلے سے بذریعہ وحی مجھے خبر دی اور کہا کہ جو کچھ تو نے لکھا ہے غالب رہے گا اور اس کی چمک ظاہر ہوگی فشهدت جذور قلوبهم أنها علت وفاقت و راقت كل قلب كصَمُلقِ | پس ان کے دلوں نے گواہی دی کہ وہ مضمون غالب رہا اور فائق ہوا اور ہر ایک سیدھے اور صاف دل کو اچھا معلوم ہوا تراءى بعين الناس حسن نكاتها وكلماتها كأنها بيضُ عَقْعَقِ لوگوں کی نظر میں اس کے نکات اور کلمات ایسے دکھائی دیئے کہ گویا وہ عقعق کے انڈے ہیں فوقعت مضاميني على كل منكر كعَضُبِ رقيق الشفرتين مُشقِّق پس میرے مضامین منکروں پر ایسے پڑے جیسے کہ ایک تلوار پتلے کنارہ والی پھاڑنے والی وكل من الأحرار ألقوا قلوبهم إلينا بصدق غير مَن كان مُمُحَقِ اور تمام آزاد طبعوں نے اپنے دل ہماری طرف پھینک دیئے صدق کیسا تھ بجز ایسے شخص کے جو خیر اور برکت سے بے نصیب تھا فصدنا بكلم كل صيد معظم كأسدٍ ونمر غير فأر وخرنق پس ہم نے بڑے بڑے شکاروں کو شکار کر لیا مثل شیر اور چیتا کے اور چوہا اور خرگوش باہر رہ گیا وتركوا لقولى رأيهم فكأنهم خذولٌ أنت ترعى خميلة منطقی اور میرے قول کیلئے انہوں نے اپنے قول چھوڑ دیئے پس گویا کہ وہ منفرد ہر نیاں تھیں جو میرے سخن کے باغ میں چرنے لگیں على ألسن قد دار ذكر كلامنا وقد هنوونا كالحبيب المشوّق اور زبانوں پر ہمارے کلام کا ذکر وارد ہوا اور دوست آرزومند کی طرح ہمیں مبارکباد دی وسَرَّ عيون الناظرين صفاؤُه کورد طَرِى الجسم لم يتشقق اور دیکھنے والوں کے دلوں کو اس کی صفائی نے خوش کیا مثل گلاب کے پھول کے جو تازہ ہو اور پھٹا ہوا نہ ہو ولما بدت روض الكلام تضعضعت قلوب العدا وتواردوا بالتأنق اور جب کلام کے باغ ظاہر ہوئے تو دشمنوں کے دل ہل گئے اور تعجب کرتے ہوئے ان باغوں میں داخل ہوئے شخص ۔