سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 223
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۲۱ حجة الله اور قَصِيدَةٌ مِّنَ الْمُؤلّف مصلح ہوں إني صدوق مصلح متردمُ سَمٌ مُـعــاداتـي وسـلـمـى أسـلــــم میں صادق اور میری دشمنی زہر اور میری صلح سلامتی ہے إني أنا البستان بستان الهدى تأتى إلى العين لا تتصرم باغ ہدایت ہوں میری طرف وہ چشمہ آتا ہے جو بھی منقطع نہیں ہوتا روحي لتقديس العلى حمامة أو عندليب غارد مترنم میری روح خدا کی تقدیس کے لئے ایک کبوتر ہے یا بلبل ہے جو خوش آوازی سے بول رہی ہے میں ماجئتكم في غير وقت عابنا میں تمہارے پاس بے وقت نہیں آیا قد جئتكم والوقت ليل مظلم میں اس وقت آیا کہ ایک اندھیری رات تھی صارت بلاد الدين من جدب عتا أقوى وأقفر بعد روض تعلم دین کی ولایت باعث قحط کے جو غالب آگیا خالی ہوگئی بعد اس کے جو وہ ایک باغ کی طرح تھی هل بقى قوم خادمون لديننا أم هل رأيت الدين كيف يحطم کیا وہ قوم باقی ہے جو ہمارے دین کی خدمت کریں اور کیا تو نے نہیں دیکھا کہ دین کو کس طرح مسمار کیا جاتا ہے فالله أرسلني لأحيى دينه حق فهل مـن راشـد يـسـتــــــــســـلـم سوخدا نے مجھے بھیجا تا کہ میں اس کے دین کو زندہ کروں یہ سچ ہے پس کیا کوئی ہے جو اطاعت کرے سيف من الرحمن لا يتعلم جهد المخالف باطل في أمرنا مخالف کی کوشش ہمارے امر میں باطل ہے یہ خدا کی تلوار ہے جس میں رخنہ نہیں ہو سکتا في وجهنا نور المهيمن لائح ہمارے منہ میں خدا تعالیٰ کا نور واضح ہے إن كان فيكم ناظر متوسم اگر کوئی تم میں دیکھنے والا ہو اليوم ينقض كل خيط مكائد لين سحيل أو شديد مُبْرَم آج ہر ایک مکر کا تاگا توڑ دیا جائے گا۔ نرم اک تارہ ہو یا سخت دو تارہ ہو مَن كان صَوَّالا فيُقطع عِرْقهُ يُرديه عالية القنا أو لَهُذَمُ جو شخص حملہ آور ہو پس اس کی رگ کاٹ دی جائے گی اور نیزہ کا اوپر کا سرایا نیچے کا سرا اس کو ہلاک کر دے گا الله آثرنا وكفل أمرنا فالقلب عند الفتن لا يتجمجم خدا نے ہمیں چن لیا اور ہمارے کام کا متکفل ہو گیا پس دل فتنوں کے وقت متردد نہیں ہوتا 17