سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 494

سراجِ منیر — Page 56

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۵۸ سراج منیر اپنی تحریروں اور چھپی ہوئی کتابوں کے ذریعہ سے مخالفوں اور موافقوں میں پیش از وقت شائع کر ۵۰ دیا ہو اور اپنی عظمت میں میری پیشگوئیوں کے مساوی ہوں اس زمانہ میں دکھاویں جن میں الہی قوت محسوس ہو تب بھی میں جھوٹا ہو جاؤں گا اور قسم کیلئے یہ ضروری ہوگا کہ جو صاحب قسم کھانے پر آمادہ ہوں وہ قادیان میں آکر میرے رو بر وقسم کھاویں میں کسی کے پاس نہیں جاؤں گا یہ دین کا کام ہے پس جو لوگ باوجود مولویت کی لاف کے اس میں سستی کریں تو خود کا ذب ٹھیریں گے اگر میرے جیسے شخص کو جس کا نام دجال رکھتے ہیں مغلوب کر لیں تو گویا تمام دنیا کو بدی سے چھڑائیں گے اور قسم کے وقت یہ شرط نہایت ضروری ہوگی کہ میں ان کی قسم سے پہلے پورے دو گھنٹے تک عام جلسہ میں ان پیشگوئیوں کی سچائی کے دلائل ان کے سامنے بیان کروں گا تا وہ جلدی کر کے ہلاک نہ ہو جائیں اور نیز ان پر حجت پوری ہو اور ان کا حق نہیں ہو گا کہ بحر قسم کھانے کے ایک کلمہ بھی منہ پر لائیں خاموشی سے دو گھنٹے تک میرے بیان کو سنیں گے پھر حسب نمونہ مذکورہ قسم کھا کر اپنے گھروں میں جائیں گے اور یاد رہے کہ میں نے سید احمد خان صاحب کا نام منکرین کی مد میں اس لئے لکھا ہے کہ ان کو خدا کے اس الہام بلکہ وحی سے بھی انکار ہے جو خدا سے نازل ہوتی اور علم غیب کی عظمت اپنے اندر رکھتی ہے چونکہ وہ بھی اب عمر کی منزل کو طے کر چکے ہیں میں نہیں چاہتا کہ وہ یورپ کے کورانہ خیالات کی پیروی کر کے اس غلطی کو قبر میں لے جائیں اب گو وہ متوجہ نہ ہوں اور اس بات کو ٹھٹھے میں اڑائیں مگر میں نے جو تبلیغ کرنی تھی وہ کر چکا ہوں میں ڈرتا ہوں کہ میں پوچھا نہ جاؤں کہ ایک بندہ گم شدہ کو تم نے کیوں تبلیغ نہ کی ۔ ۔ بعض نادان کہتے ہیں کہ ہر دفع عذاب اور موت کی پیشگوئیاں کیوں کی جاتی ہیں یہ نادان نہیں جانتے کہ ہر ایک نبی انداری پیشگوئیاں کرتا رہا ہے اگر یہ روا نہیں ہے تو اس کے کیا معنے ہیں کہ مسیح موعود کے دم سے مخالف مریں گے۔ غرض یہ نو صاحب ہیں جو قسم کے لئے منتخب کئے گئے ہیں کیوں کہ ہر ایک ان میں سے ایک جماعت اپنے ساتھ رکھتا ہے پس اس کے ساتھ فیصلہ کرنے سے جماعت کا فیصلہ خود ضمناً ہو جائے گا ۔ قسم کا یہی مضمون ہوگا کہ یہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور پہلے