سراجِ منیر — Page 36
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۸ سراج منیر اور کشف شائع کر دیا۔ یہ شخص شرمیت نہایت متعصب آریہ ہے جس کو میرے خیال میں بقيه حاشيه آخر شدھ ہونے والے کو دیکھ لیا کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا اور دوسرے اس واقعہ سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ آئندہ یہ خواہشیں نہ کریں کہ کوئی دوسرا لیکھر ام یعنی بد زبانیوں میں اس کا ثانی تلاش کرنا چاہیے لیکن اگر فی الواقعہ وہ بات صحیح ہے جو پیسہ اخبار اور سفیر میں لکھی گئی ہے یعنی یہ کہ اس کے قتل کا سبب صرف بدکاری ہے اور یہ کام کسی غیرت مند لڑکی کے باپ یا خاوند کا ہے جیسا کہ بقول پیسہ اخبار کثرت رائے اسی طرف ہے تو آئندہ نیک چلن واعظ تلاش کرنا چاہیے! تعجب کی بات ہے کہ جس حالت میں بموجب بیان پیسہ اخبار کے زیادہ مشہور روایت یہی ہے کہ واردات قتل کا موجب کوئی نا جائز تعلق ہے تو کیوں اس طرف تحقیقات کے لئے توجہ نہیں کی جاتی اور کیوں ایسے ہندوؤں کے اظہار نہیں لئے جاتے جن کے مونہہ سے یہ باتیں نکلیں اور کیا بعید ہے کہ وہی بات ہو کہ ڈھنڈورا شہر میں لڑکا بغل میں۔ منہ نوٹ: بعض صاحب عیسائیوں میں سے اعتراض کرتے ہیں کہ اگر چہ یکھرام کی نسبت پیشگوئی پوری ہوگئی مگر ہندوؤں نے اس کو مرنے کے بعد ذلت کی نظر سے نہیں دیکھا ۔۔ ایسا عذر ایک عیسائی کے منہ سے نکلنا نہایت افسوس کی بات ہے۔ بھلا منصف بتلاویں کہ جب ہم نے پیشگوئی کے پورا ہونے کو اسلام کی سچائی کا ایک معیار ٹھہرایا تھا اور خدانے لیکھرام کو مار کر مسلمانوں کی ہندوؤں پر ڈگری کر دی تو اس حالت میں نہ صرف لیکھرام بلکہ بحیثیت مذہبی اس تمام فرقہ کی عزت میں فرق آ گیا ۔ رہی لاش کی عزت تو لاش کا ڈاکٹر کے ہاتھ سے چیرا جانا کیا یہ عزت کی بات ہے اور چال چلن کی عزت کا یہ حال ہے کہ پیسہ اخبار ۱۳ار مارچ ۱۸۹۷ء میں لکھا ہے کہ اس شخص کے مارے جانے کی مشہور روایت یہ ہے کہ یہ شخص کسی عورت سے ناجائز تعلق رکھتا تھا اور یہی عام طور پر کہا جاتا اور یقین کیا جاتا ہے ۔ فقط ۔ پس اس سے زیادہ ذلت کا اور کیا نمونہ ہوگا کہ جان بھی گئی اور اکثر شہر کے لوگ اس کی وجہ بدکاری ٹھہراتے ہیں۔ منہ نوٹ: ایک نشان عقلمندوں کے لئے یہ ہے کہ شیخ نجفی نے چالیس دقیقہ میں نشان دکھلانے کا وعدہ کیا تھا اور ہم نے یکم فروری ۱۸۹۷ء سے چالیس روز میں دیکھو حاشیہ اشتہار یکم فروری ۱۸۹۷ء صفحہ ۳ جس کی عبارت یہ ہے۔ اگر نشانی از مادریں مدت یعنی چهل روز بظهور آمد و از ایشان یعنی از شیخ نجفی چیزے بظهور نیا مدہمیں دلیل بر صدق ما و کذب شان خواهد بود سو یکم فروری ۱۸۹۷ء سے ۳۵ دن تک یعنی چالیس روز کے اندر نشان موت پنڈت ز لیکھرام وقوع میں آ گیا۔ نجفی صاحب یہ تو بتلاویں کہ یکم فروری ۱۸۹۷ء سے آج تک کتنے دقیقے گذر گئے ہیں ۔ افسوس کہ نجفی نے کسی منارہ سے گر کے بھی نہ دکھلایا۔ گر ہمیں لاف و گزاف و شیخی است شیخ نجدی بهتر از صد نجفی است