سراجِ منیر — Page 4
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۶ سراج منیر نزدیک مسیح اسرائیلی نبی کے واپس آنے کے لئے ابھی ایک کھڑ کی کھلی ہے۔ پس جب قرآن کے بعد بھی ایک حقیقی نبی آ گیا اور وحی نبوت کا سلسلہ شروع ہوا تو کہو کہ ختم نبوت کیوں کر اور کیسا ہوا ۔ کیا نبی کی وحی وحی نبوت کہلائے گی یا کچھ اور ۔ کیا یہ عقیدہ ہے کہ تمہارا فرضی مسیح وحی سے بکلی بے نصیب ہو کر آئے گا ؟ تو بہ کرو اور خدا سے ڈرو اور حد سے مت بڑھو۔ اگر دل سخت نہیں ہو گئے تو اس قدر کیوں دلیری ہے کہ خواہ مخواہ ایسے شخص کو کافر بنایا جاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقی معنوں کی رو سے خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور قرآن کو خاتم الکتب تسلیم کرتا ہے۔ تمام نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اہل قبلہ ہے اور شریعت کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتا ہے ۔ اے مفتری لوگو! میں نے کسی نبی کی توہین نہیں کی۔ میں نے کسی عقیدہ صحیحہ کے برخلاف نہیں کہا۔ پر اگر تم خود نہ سمجھو تو میں کیا کروں ۔ تم تو قائل ہو کہ جزئی فضیلت ایک ادنی شہید کو ایک بڑے نبی پر ہو سکتی ہے۔ اور یہ سچ ہے کہ میں خدا کا فضل اپنے پر مسیح سے کم نہیں دیکھتا مگر یہ کفر نہیں یہ خدا کی نعمت کا شکر ہے۔ تم خدا کے اسرار کو نہیں جانتے اس لئے کفر سمجھتے ہو۔ اس کو کیا کہو گے جو کہہ گیا هو افضل من بعض الانبیاء اگر میں تمہاری نظر میں کافر ہوں تو بس ایسا ہی کا فرجیسا کہ ابن مریم یہودی فقیہوں کی نظر میں کافر تھا۔ میرے پاس خدا کے فضل کی اس سے بھی بڑھ کر باتیں ہیں مگر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے ۔ خوب یا درکھو کہ مجھ کو کافر کہنا آسان نہیں۔ تم نے ایک بھاری بوجھ سر پر اٹھایا ہے اور تم سے ان سب باتوں کا جواب پوچھا جائے گا !! اے بد قسمت لوگو! تم کہاں گرے کونسی چھپی ہوئی بداعمالیاں تھیں جو تمہیں پیش آگئیں ۔ اگر تم میں ایک ذرہ بھی نیکی ہوتی تو خدا تمہیں ضائع نہ کرتا ابھی کچھ تھوڑا وقت ہے اور بہت سا تو اب کھو چکے ہو باز آ جاؤ ۔ کیا خدا سے اس بیوقوف کی طرح لڑائی کرو گے جو زور آور کے آگے سے نہیں ہٹ جاتا یہاں تک کہ مار سے پیا جاتا اور کچلا جاتا ہے اور آخر ہڈیاں چور ہو کر اور مردہ سا بن کر زمین پر گر پڑتا ہے۔ یہودیوں نے لڑائی سے کیا لیا اور تم کیا لو گے ؟ هذا و بعد الموت نحن نخاصم ۔ بہت کچھ صوفیوں نے بھی انسانی کمالات