سراجِ منیر — Page 318
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۱۸ محمود کی آمین قرآن کریم کی مدح میں عاشقانہ ترانہ اور اس امر کے بیان میں کہ قول خداوندی اور قول بشر میں فرق بین ہونا ضروری ہے اور اس لئے قرآن کریم لا ریب قول خداوندی ہے جمال وحسن قرآں نور جان ہر مسلمان ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے نظیر اسکی نہیں جمتی نظر میں غور کر دیکھا بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے بہار جاوداں پیدا ہے اسکی ہر عبارت میں نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اس سا کوئی بستاں ہے کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر لولوئے عماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لا علمی سخن میں اسکے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اس پہ آساں ہے ارے لوگو کرو کچھ پاس شان کبریائی کا زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بوئے ایماں ہے خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے خدا سے کچھ ڈرو یا رویہ کیسا کذب و بہتاں ہے اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا تو پھر کیوں اس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے ہمیں کچھ کہیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبا نہ کوئی جو پاک دل ہو دے دل و جاں اس پہ قرباں ہے دیگر نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودہ ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا یا الہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا