سراجِ منیر — Page 240
روحانی خزائن جلد ۱۲ الده نه حجة الله ألا أيها الغالي إلامَ تُفسِّقُ ؟ فدونك نُصحى واتق الله وارفق اے غلو کرنے والے تو کب تک گالیاں دے گا پس میری نصیحت قبول کر اور خدا سے ڈر اور نرمی کر و ما جئتكم من غير آي وحُجَةٍ وقد أشرقت آيات ربي وتشرق اور میں بغیر نشانوں کے تمہارے پاس نہیں آیا اور میرے رب کے نشان چھکے ہیں اور بعد اس کے چمکیں گے فما وقع منها خُذْ كمَن يطلب الهدى وما لم يقَعُ فاترك هواک ورنق پس جو کچھ اس میں سے واقع ہو گیا اس کو طالب ہدایت کی طرح لے لے اور جو واقع نہیں ہوا اس کے لینے کا منتظر رہ رأيتُ كثيرا من لئام وإنني كمثلك ما آنستُ رَجُلاً زَبَعْبَقِ میں نے بہت لئیم دیکھے مگر میں نے تیرے جیسا بدخو کوئی دیکھا تستر لبک تحت كبرٍ ونخوة كلب عفا في بطن جوز مُرَصَّقِ تیری عقل تکبر اور نخوت کے نیچے چھپ گئی اس مغز اخروٹ کی طرح جو تنگ اور سخت چھلکے والے اخروٹ میں چھپ گیا ہو أراك كفَدَّانِ تخاذل رجله فلابد من رجل يسوق ويزعق میں تجھے اس بیل کی طرح دیکھتا ہوں جو چلنے میں سستی کرتا ہے پس ایسے آدمی کا ہونا ضروری ہے کہ ہائے اور بلند آواز سے زجر کرے ومَا أَنتَ إِلَّا كالعصافير ذلة وتحسب نفسك مِن عَمَاءٍ كَسَوذَقِ | اور تو کچھ نہیں مگر ایک چڑیا ہے اور نابینائی سے اپنے تئیں ایک شاہین سمجھتا ہے فتُرجم يا إبليس ثم بحربةٍ تُمزّق تمزيقا كثوبِ مُشَرَقِ پس اے ابلیس تو سنگسار کیا جائے گا اور پھر ایک حربہ کے ساتھ پہلے کپڑے کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا ورثت لئاما قد خلوا قبل وقتكم تشابهت الأطوار يَا أَيُّهَا الشقى تو ان لیموں کا وارث ہو گیا جو تمہارے پہلے گزر گئے اے شقی تمہارے طور ان سے مشابہ ہو گئے وساء تک ما قلنا فعينك قد عمت كمثل خفافيش إذا الشمس تشرق | اور تجھے ہماری بات بری معلوم ہوئی اور تو اندھا ہو گیا ان شہروں کی طرح جو سورج کے چپکنے کے وقت اندھی ہو جاتی ہیں ومن لم يكن في دينه ذا بصيرة يكُن أمره تكذيب أمر محقق اور جو شخص اپنے دین میں بصیرت نہ رکھتا ہو محققوں کی تکذیب اس کی عادت ہو گئی قفوتم أمورًا لم يكن علمها لكم فإني عَلَيْكم يا عدا الحقِّ أُشفق تم ان امور کے پیرو ہو گئے جن کا تمہیں علم نہ تھا تو میں او دشمنان حق تمہاری حالت پر ہراساں ہوں