سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 494

سراجِ منیر — Page 122

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۲۲ استفتاء ہے۔ اگر پیشگوئی فی الواقعہ ایک عظیم الشان ہیبت کے ساتھ ظہور پذیر ہو تو وہ خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور یہ سارے خیالات اور یہ تمام نکتہ چینیاں جو پیش از وقت دلوں میں پیدا ہوتی ہیں ایسی معدوم ہو جاتی ہیں کہ منصف مزاج اہل الرائے ایک انفعال کے ساتھ اپنی رایوں سے رجوع کرتے ہیں ماسوا اس کے یہ عاجز بھی تو قانون قدرت کی تحت میں ہے۔ اگر میری طرف سے بنیاد اس پیشگوئی کی صرف اسی قدر ہے کہ میں نے صرف یاوہ گوئی کے طور پر چند احتمالی بیماریوں کو ذہن میں رکھ کر اور انکل سے کام لے کر یہ پیشگوئی شائع کی ہے تو جس شخص کی نسبت یہ پیشگوئی ہے وہ بھی تو ایسا کر سکتا ہے کہ انہیں انکلوں کی بنیاد پر میری نسبت پیشگوئی کر دے۔۔۔۔ اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ضرور ہیبت ناک نشان کے ساتھ اس کا وقوعہ ہوگا اور دلوں کو ہلا دے گا اور اگر اس کی طرف سے نہیں تو میری ذلت ظاہر ہوگی اور اگر میں اس وقت رکیک تاویلیں کروں گا تو یہ اور بھی ذلت کا موجب ہوگا ۔ وہ ہستی قدیم اور وہ پاک و قدوس جو تمام اختیار اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے وہ کا ذب کو کبھی عزمی نہیں دیتا۔ یہ بالکل غلط ہے کہ لیکھرام سے مجھ کو کوئی ذاتی عداوت ہے۔ مجھ کو ذاتی طور سے کسی سے بھی عداوت نہیں بلکہ اس شخص نے سچائی سے دشمنی کی اور ایک ایسے کامل اور مقدس کو جو تمام سچائیوں کا چشمہ تھا تو ہین سے یاد کیا اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے ایک پیارے کی عزت دنیا میں ظاہر کرے۔ فقط ۔ یہ وہ الہامی پیشگوئی کی تائید میں مضمون ہے جو برکات الدعا کے ٹائٹل پہنچ کے صفحہ میں لکھا ہوا ہے پھر اسی صفحہ کے حاشیہ پر ایک اور الہامی پیشگوئی لیکھرام کی نسبت ہے جس کا عنوان یہ ہے۔ لیکھر ام پشاوری کی نسبت ایک اور خبر ۔ پھر آگے یہ عبارت ہے: آج جو ۲ را پریل ۱۸۹۳ء مطابق ۱۴ / ماه رمضان ۳۱۰ ا ھ ہے صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا اس کے چہرہ پر سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملائک شداد غلاظ میں سے ہے اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اس کو دیکھتا ہی تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھر ام کہاں ہے؟ اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے۔ تب میں نے اس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھر ام اور اس دوسرے شخص کی سزا دہی کیلئے مامور کیا گیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے ہاں یہ یقینی طور پر یاد رہا ہے (یعنی عالم کشف میں دل میں گزرا ہے ) کہ وہ دوسرا شخص انہیں چند آدمیوں میں سے تھا جن کی نسبت میں اشتہار دے چکا ہوں (یعنی ایسا شخص جو حمید میں نے پہلے صاف کہہ دیا تھا کہ چونکہ خدا تعالیٰ کا ذب کو عزت نہیں دیتا اس لئے اگر میں کا ذب ہوں تو یہ پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہو گی اور نیز میں نے صاف کہہ دیا تھا کہ یہ پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ظاہر کرنے کے لئے ہے پس جو شخص کہتا ہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اس کو اقرار کرنا چاہیے کہ اس جگہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی ۔ منہ