سراجِ منیر — Page 87
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۸۹ سراج منیر لک بانی معترف بصلاح حالک بلا ارتیاب و موقن بانک من عباد الله الصلحين و في سعيك المشكور مثاب وقد اوتيت الفضل من الملك الوهاب | و لك ان تسئل من الله تعالى خير عاقبتی و ادعولكم حسن ماب ولو لا خوف الاطناب لازددت في الخطاب - والسّلام على من سلك سبيل الصواب - فقط ۲۷ رجب ۳۱۴ اه من مقام چاچڑاں فقیر غلام فرید خادم الفقرا ۱۳۰۱ مهر ترجمہ ۔ تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو رب الارباب ہے اور درود اس رسول مقبول پر جو یوم الحساب کا شفیع ہے اور نیز اس کے آل اور اصحاب پر اور تم پر سلام اور ہر ایک پر جو راہ صواب میں کوشش کرنے والا ہو ۔ اس کے بعد واضح ہو کہ مجھے آپ کی وہ کتاب پہنچی جس میں مباہلہ کے لئے جواب طلب کیا گیا ہے اور اگر چہ میں عدیم الفرصت تھا تاہم میں نے اس کتاب کے ایک جز کو جو حسن خطاب اور طریق عتاب پر مشتمل تھی پڑھی ہے ۔ سواے ہر ایک حبیب سے عزیز تر تجھے معلوم ہو کہ میں ابتدا سے تیرے لئے تعظیم کرنے کے مقام پر کھڑا ہوں تا مجھے ثواب حاصل ہو۔ اور کبھی میری زبان پر بجز تعظیم اور تکریم اور رعایت آداب کے تیرے حق میں کوئی کلمہ جاری نہیں ہوا اور اب میں تجھے مطلع کرتا ہوں کہ میں بلا شبہ تیرے نیک حال کا معترف ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ تو خدا کے صالح بندوں میں سے ہے اور تیری سعی عنداللہ قابل شکر ہے جس کا اجر ملے گا اور خدائے بخشندہ بادشاہ کا تیرے پر فضل ہے میرے ۔ لئے عاقبت بالخیر کی دعا کر اور میں آپ کے لئے انجام خیر و خوبی کی دعا کرتا ہوں ۔ اگر مجھے طول کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں زیادہ لکھتا۔ والسلام علی من سلک سبیل الصواب ۔ بسم الله الرحمن الرحيم اس کا جواب نحمده ونصلى على رسوله الكريم من عبدالله الاحد غلام احمد عافاه الله وايد الى الشيخ الكريم السعيد حبي في الله غلام فريد السلام عليكم و رحمة الله وبركاته۔ اما بعد فاعلم ايها العبد الصالح قد بلغنى منك مكتوب ضُمخ بعطر الاخلاص (ج)