سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 494

سراجِ منیر — Page 75

روحانی خزائن جلد ۱۲ 44 سراج منیر آقا کی غیرت جوش مارتی ہے اور اس غلام کی سرافرازی کے لئے کوئی ایسا کام کرتا ہے کہ گویا اس نے اس کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے ہیں یعنی ایسی رضا مندی ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ ایسا مہربان اس پر ربان اس پر کبھی ناراض نہیں ہو گا یہ عظیم الا ہوگا یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے۔ پھر اس کے بعد اسی صفحہ میں ایک تصویر دکھلائی گئی ہے اور وہ تصویر اس عاجز کی ہے سبز پوشاک ہے اور تصویر نہایت رعبناک ہے جیسے سپہ سالار مسلح فتح یاب اور دائیں بائیں تصویر کے یہ لکھا ہے حجة الله القادر - سلطان احمد مختار ۔ اور تاریخ دیکھی ہے سو ی لکھی ہے سوموار کا روز انیسویں ذی الحجہ ۱۳۰۰ مطابق ۲۲ اکتوبر ۱۸۸۳ء اور ششم کا تک سمت ۱۹۴۰ بکرم ۔ یہ تمام عبارت براہین کے ص ۵۱۵ اور ص ۵۱۶ میں موجود ہے۔ یہ کشف بتلا رہا ہے کہ ہتھیار کے ذریعہ سے ایک نشان ظاہر ہوگا ۔ سولیکھرام کا نشان اسی طرح وقوع میں آیا پھر اس کے بعد ص ۵۱۶ میں یہ الہامی عبارت ہے اليس الله بكاف عبده ۔ فَبَرَّأهُ الله مِمَّا قالوا وكَانَ عند الله وجيها ۔ فلما تجلى ربه للجَبَل جَعَله دگا و الله موهن كيد الكافرين۔ ولنجعله أية للناس ورحمة منا و كان امرًا مقضیا یعنی کیا خدا اپنے بندہ کو کافی نہیں ہے پس خدا نے اس کو اس الزام سے بری کیا جو کافروں نے اس پر لگایا اور وہ خدا کے نزدیک وجیہ ہے اور خدا نے مشکلات کے پہاڑ کو پاش پاش کیا اور کافروں کے مکر کو سست کیا اور ہم اس کو اپنی رحمت سے ایک نشان ٹھہرائیں گے اور ابتدا سے ایسا ہی مقدر تھا۔ اس الہام میں خدا تعالیٰ ظاہر فرماتا ہے کہ ہند ولیکھرام کے ﴿۱۸﴾ قتل کے بعد سازش قتل کا ایک الزام لگائیں گے اور ایک مکر کریں گے تا وہ الزام پختہ ہو جائے ۔ ہم اس مہم کی بریت ظاہر کر دیں گے اور ان کے مکر کوئست کر دیں گے اور مشکلات کے پہاڑ آسان ہو جائیں گے۔ اب کچھ ضرور نہیں کہ ہم کسی کو اس پیشگوئی کی طرف توجہ دلاویں خود اہل انصاف سوچیں اور اس قدر کھلے کھلے غیبی امور سے انکار کر کے اپنی عاقبت کو خراب نہ کریں۔ یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ اس پیشگوئی میں جو لیکھرام کو عجل سے نسبت دی گئی اس میں کئی مناسبتوں کا لحاظ ہے (۱) اوّل یہ کہ جیسا کہ گوسالہ سامری بے جان تھا ایسا ہی یہ بھی