شحنۂِ حق — Page 406
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۹۲ شحنه حق نہیں ہو سکتی بلکہ بغیر حصول کمالات معنوی کے سن وسال میں پرانا ہو جانا اسی مثل کا مصداق ہوگا کہ گوساله ما پیر شد گاؤ نشد اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں ویدوں کے پرانے ہونے پر کوئی دلیل بھی نہیں ہاں اگر یہ کہو کہ ویدوں کا پر عیب ہونا ہی ان کے پرانے ہونے پر دلیل ہے ۔ تو شاید یہ وجہ قبول ہو سکے کیونکہ پیری و صد عیب چنین گفته اند - پھر ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ بجز ذاتی کمالات کے جس قدر خارجی بزرگیاں ہیں خواہ وہ کبر سن ہو یا کثرت دولت یا حصول حکومت یا شرف قومیت وغیرہ وغیرہ وہ سب ہیچ ہیں اور صرف انہیں کے لحاظ سے بزرگی کا دم مارنا گدھوں کا کام ہے نہ انسانوں کا ۔ میں نے سنا ہے کہ لارڈ النبرا صاحب بہادر کی بیوی جو پہلے زمانہ میں ہندوستان کے گورنر جنرل تھے ایک بزرگ خاندان میں سے تھی جو قدیم ہونے کا دعوی کرتا تھا پھر اس پر دوسری بزرگی اس لیڈی صاحبہ کو یہ حاصل ہوئی جو لاٹ صاحب کی جو رو بنی ۔ اب اس کے ذاتی کمالات کا بھی حال سنیے ۔ کہتے ہیں کہ یہ عورت اب تک زندہ ہے اور اگر چہ جائز طور پر نو جسم بھی کر چکی ہے مگر آشناؤں کی کچھ گنتی نہیں اور اکثر آشناؤں کے ساتھ بھاگتی بھی رہی ہے پھر آخر عبدل نامی مسلمان قوم شتربان سے نکاح کیا اور اس کے تلے بھی نہ ٹھہریں ۔ اب فرمائیے حضرت کہ اس عورت کی دونوں بزرگیاں اس ذاتی بے شرمی کے ساتھ کچھ مقابلہ کر سکتی ہیں سو آپ کا وید پرانا ہی سہی فرض کرو کہ بابا آدم سے پہلے کا ہے لیکن ہم مکر رعرض کرتے ہیں کہ صرف قدامت کی وجہ سے بزرگ نہیں ٹھہر سکتا مگر شائد جاہلوں کی نظر میں ۔ ہاں اگر وید کی بزرگی ثابت کرنی ہے اور ربّانی کلام ہونے کا ثبوت اس میں