شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 548

شحنۂِ حق — Page 378

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۶۴ شحنه حق و تبدیل کر کے اور اپنی طرف سے کچھ کا کچھ تو دہ طوفان بنا کر اور بات کو کہیں سے کہیں لگا کر یہ اعتراض کرتا ہے کہ گویا ہم نے یہ مکر وفریب کیا اور جھوٹ بولا اور جھوٹ کی ترغیب دی ۔ پس اول تو ہم آ ر یہ صاحبوں کے شریف لوگوں پر جن کو اپنی سوسائٹی کی عزت اور نیک نامی کا خیال ہے ظاہر کرتے ہیں کہ جس نا جائز طور سے یہ خطوط حاصل کئے گئے ہیں وہ یہ ہے کہ لالہ بشن داس مکتوب الیہ کی دکان پر ایک کیسوں والے آریہ نے ( جواب با وانا تک صاحب سے بیزار ہو کر دیا نندی پنتھ میں داخل ہو گیا ہے ) ایک دو آریہ اوباشوں کی رازداری و تحریک سے بیٹھنا شروع کیا ایک دن بشن داس اس دیا نندی تا نتیا بھیل کے اعتبار سے جیسا کہ دوکانداروں کی عادت ہے اپنی دکان کو کھلی چھوڑ کر کسی کام کے لئے بازار میں نکلا اس کے جانے کے ساتھ ہی سکھ صاحب نے اس کے صندوق کو ہاتھ مارا شاید اس دست درازی سے نیت تو کسی اور شکار کی ہوگی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ مالدار آدمی ہے مگر لالہ بشن داس کی قسمت اچھی تھی کہ اس جلدی میں زیور تک جو صندوق میں پڑا ہوا تھا ہاتھ نہ پہنچا صرف دو خط ہاتھ میں آگئے جن کو اس کے انہیں ہم مشورہ یا روں نے جو ایک ہی سانچے کے ہیں بہت سی خیانت اور یا وہ گوئی کے ساتھ چھاپ دیا اور حیا اور شرم سے الگ ہو کر ایک بے اصل تراش خراش سے ایک نا واجب اعتراض ہم پر بنایا اور جس شنیع کام کا آپ ارتکاب کیا اس کی طرف ذرہ بھی خیال نہ آیا۔ ہم لاہور کے معزز آریہ سماج والوں کو اس طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ان لوگوں کی جلدی سے خبر لیں ورنہ جن نالائق منصوبوں اور بُرے خیالات کی اس سماج میں کھچڑی