شحنۂِ حق — Page 353
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۳۹ شحنه حق بحوالہ آیات بینات قرآنی ثبوت پیش کر کے لالہ صاحب کے وید سے بھی ایسے ہی ثبوت کا مطالبہ ہوگا تب معلوم نہیں کہ مصر جی کسی سوراخ میں چھپتے پھریں گے ۔ کوئی پڑھے تو اسے معلوم ہو کہ قرآن شریف ربانی صفات کے بیان کرنے میں اور ا ما بے مثل و اور انہیں جسم اور جسمانی چیزوں سے ممیز اور ممتاز ٹھہرا۔ اور ممتاز ٹھہرانے میں ایسا بے مانند ہے کہ یہ روشن بیان کسی دوسری کتاب میں ہرگز پایا جاتا ہی نہیں ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ کلام الہی کا پڑھنا اور سمجھنا ہر یک بز اخفش کا کام نہیں کچھ تو تمیز چاہیے ۔ نرا کھڑ پینچ بن کر رائے دینے والا نہ بن بیٹھے ۔ بھلا ہم تم سے ہی انصاف چاہتے ۔ ہیں کہ جو شخص ایک مواج دریا کی نسبت یہ رائے ظاہر کرے کہ اس میں ایک قطرہ پانی کا بھی نہیں ایسے شخص کا کیا نام رکھنا چاہیے اندھا یا سو جاکھا ۔ افسوس کہ آر یہ لوگ رگوید کی ان شرتیوں کو نہیں پڑھتے جن میں اندر کو خدا بنا کر پھر سوم کا عرق اس کے حلق میں ڈالا گیا ہے اور اگنی کو پرمیشر قرار دے کر دھوئیں کی جھنڈی اس کے سر پر رکھی گئی ہے اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ رگوید سنتھا اشتک اول میں اندر پر میشر کو کو سید کا رشی کا پوتر بھی بنا دیا گیا ہے جس کے گھر اندر نے آپ ہی جنم لے لیا تھا اور پھر اتنے پر بھی کفایت نہیں بلکہ اسی اشتک میں پرمیشر کے پرمیشر پن کا یاں تک ستیا ناس کیا گیا ہے کہ اس کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ وہ جوان بھی ہوتا ہے اور بوڑھا بھی اور سوم کا رس پیتے پیتے سمندر کی مانند اس کا پیٹ ہو جاتا ہے اور اگنی ا پر میشر کی نسبت لکھا ہے ہے کہ کہ دولکڑیوں دو لکڑیوں کے رگڑنے سے پیدا ہوتی ہے اور اس کے والدین بھی ہیں غرض کہاں تک ہم اپنے کاغذات کو سیاہ کریں جن لوگوں کا پرمیشر اس قدر جسم اور جسمانی صفات میں بلکہ آفات