شحنۂِ حق — Page 285
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۷۳ سرمه چشم آریہ پر کس قدر فضول اور دور از حق ہے کیونکہ اول تو یہ اعتراض اگر فرضی طور پر صحیح بھی تسلیم ۲۲۵ کر لیا جائے اور یہ قرار دیا جائے کہ اس آیت قرآنی کے دوسرے طور پر معنے ہیں تو ایسا قرار دینے سے کوئی بداثر اسلام پر نہیں پہنچ سکتا اگر کچھ اثر ہوگا تو صرف یہی کہ ہزا رہا معجزات میں سے ایک معجزہ بہ پایہ ثبوت نہ پہنچ سکا لیکن جس حالت میں صد ہا شواہد قاطعه حقیت اسلام پر موجود ہیں اور خود قرآن شریف اپنی ذات میں مجموعہ براہین و دلائل ہے تو پھر اگر عدم ثبوت شق القمر فرض بھی کر لیا جائے تو اس سے حرج یا نقصان کیا ہوا ۔ کیا ان قرآنی معجزات کا کوئی کتاب جو الہامی کہلاتی ہے مقابلہ کر سکتی ہے جن سے ذاتی اعجاز قرآن شریف کا ثابت ہوتا ہے اور اس کے روحانی خواص بپا یہ ثبوت پہنچتے ہیں ۔ قرآن شریف توحید کے کامل اور پر زور بیان میں اپنے اصول کو معقول اور مدلل طور پر ثابت کرنے میں ، اخلاق فاضلہ کے تمام جزئیات کے لکھنے میں ، اخلاق ذمیمہ کے معالجات لطیفہ میں ، وصول الی اللہ کے تمام طریقوں کی توضیح میں نجات کی سچی فلاسفی ظاہر کرنے میں ، صفات کا ملہ الہیہ کے اکمل واتم ذکر میں ، مبدء و معاد کے پر حکمت بیان میں روح کی خاصیتوں اور قوتوں اور طاقتوں اور استعدادوں کے بیان میں حکمت بالغہ الہیہ کے تمام وسائل پر احاطہ کرنے میں ، تمام اقسام بقيه حاشیه کر سکتے جیسا کہ مسیح کو اس نام سے محدود کیا گیا ہے کیونکہ یہ نقطہ محمد یہ ظلی طور پر ۲۵ مستجمع جميع مراتب الوہیت ہے اسی وجہ سے تمثیلی بیان میں حضرت مسیح کو ابن سے تشبیہ دی گئی ہے بباعث اسی نقصان کے جوان میں باقی رہ گیا ہے کیونکہ حقیقت عیسو یہ مظہر اتم صفات الوہیت نہیں ہے بلکہ اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے برخلاف حقیقت محمد یہ کے کہ وہ جمیع صفات الہیہ کا اتم و اکمل مظہر ہے جس کا ثبوت عقلی و نقلی طور پر کمال درجہ پر پہنچ گیا ہے سواسی وجہ سے مبہ وجہ سے تمثیلی بیان میں ظلی طور پر خدائے قادر ذو الجلال سے آنحضرت کو آسمانی کتابوں میں تشبیہ دی گئی ہے جو