شحنۂِ حق — Page 266
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۴ سرمه چشم آریه ۲۰۶ انجام پذیر ہو سکتا ہے جو عدم سے وجود بخشنے پر قادر ہو اور اگر بفرض محال یہ تسلیم بھی کر لیں کہ ایک ایسے کمزور اور نکھے کے ہاتھ سے جوڑ نا جاڑ ناممکن ہے جس نے نہ کسی روح کو پیدا کیا اور نہ کسی مادہ کو اور نہ وہ صد ہا خواص اور طاقتیں اور استعداد میں جو روحوں اور مادوں میں پائی جاتی ہیں اس کی پیدا کردہ ہیں تو پھر مجرد جوڑنا جاڑنا اس کو قابل تعریف بنا نہیں سکتا بلکہ یہ سب تعریفیں روحوں اور ذات اجسا اجسام کی طرف عائد ہوں گی۔ اور اس صورت میں پر میشر پر لازم و واجب ہوگا کہ روحوں اور مادوں کا شکرگزار اور ثناخواں ہو جنہوں نے مفت میں اس کو نیک نامی دلائی ۔ گھی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نانو۔ قوله - پرمیشر کی اس صورت میں ہتک ہوتی کہ جب اس سے زیادہ تر کا ریگر پیش کیا جاتا۔ اقول ۔ لو صاحب اب تو آپ کے پرمیشر کی آپ ہی کے منہ سے ہتک ثابت ہوگئی کیونکہ آپ کے خیالی اور وہمی اور فرضی پر میشر سے اور زیادہ تر کاریگر نکل آیا جس کے وجود کے ۲۰۶ بقيه حاشیه پیدا ہو جاتی ہے اپنے آقا سے ہم طبیعت و ہم طریق ہو جاتا ہے اور اس کی مرادات کا ایسا ہی طالب اور خواہاں ہوتا ہے جیسے آقا خود اپنی مرادات کا خواہاں ہے اسی طرح بندہ وفادار کی حالت اپنے مولیٰ کریم کے ساتھ ہوتی ہے یعنی وہ بھی اپنے خلوص اور صدق وصفا میں ترقی کرتا کرتا اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اپنے وجود سے بکلی محو فنا ہو کر اپنے مولیٰ کریم کے رنگ میں مل جاتا ہے۔ آنجا کہ محبتے نمک میریزد ہر پرده که بود از میان برخیزد این نفس دنی که صد ہزارش دهن است خاموش شود چو عشق شور انگیزد چون رنگ خودی رود کسی را از عشق یارش از کرم برنگ خویش آمیزد سو ایسا خادم جو ہم رنگ اور ہم طبیعت مخدوم ہو رہا ہے طبعی طور پر اُن سب سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ذرات “ ہونا چاہیے۔(ناشر)