شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 548

شحنۂِ حق — Page 248

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۳۶ سرمه چشم آریہ ۱۸۸) اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ کو پیش از وقوع دلیپ سنگھ کے ابتلا کی خبر نہیں دی گئی۔ کیا آپ قسم ۱۸۸ یہ کھا کر بیان کر سکتے ہیں کہ آپ کو جلسہ عام میں یہ نہیں بتلایا گیا کہ وہ فقرہ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء جس میں لکھا ہے کہ ایک امیر نو وارد پنجابی الاصل کی نسبت متوحش خبر یں اس سے مراد دلیپ سنگھ ہے ایسا ہی یہ خبر جا بجا صد ہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو جو پانچ سو سے کسی قدر زیادہ ہی ہوں گے کئی شہروں میں پیش از وقوع بتلائی گئی تھی اور اشتہارات ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء بھی دور دور ملکوں تک تقسیم کئے گئے تھے پھر آخر کار جیسا که پیش از وقوع بیان کیا گیا اور لکھا گیا تھا وہ سب باتیں دلا سب باتیں دلیپ سنگھ کی نسبت پوری ہوگئیں ! ہو گئیں اور یہ پیش گوئی ایسے وفا ایسے وقت میں یعنی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں لکھی گئی اور شہرت دی گئی کہ جب دلیپ سنگھ کی پنجاب میں بالضرور آجانے کی ایک دھوم مچی ہوئی تھی اور بعض دوست اور بھائی بند اس کی اسی خیالی خوشی میں پیشوائی کے لئے بمبئی تک بھی جا پہنچے تھے۔ سو یہ پیشگوئی کروڑ ہا شخصوں کے خیالات کے مخالف اور حالات موجودہ کے برعکس کی گئی اور سب نے دیکھ لیا کہ کیسی ٹھیک ٹھیک ظہور میں آئی۔ اب فرمائیے آپ کا یہ کہنا کہ آج تک کوئی پیشگوئی ہم نے نہیں دیکھی جھوٹ ہے یا نہیں ۔ اسی طرح صاحب اخبار عام لاہور کی خدمت میں بھی عرض کیا جاتا ہے کہ جو کچھ انہوں نے اپنے پرچہ ۲۱ جولائی ۱۸۸۶ء میں اس پیشگوئی کے انکار میں لکھا ہے اس کے پڑھنے سے ہمیں ان کے تعصب اور نافہمی پر بہت ہی افسوس آتا ہے وہ بقيه حاشیه نازک نکات عرفانی سے بیگانہ اور اس کو چہ اسرار الوہیت سے نا آشنا محض ہیں وہ تعجب کریں گے کہ کیونکر کروڑہا اور بے شمار مخلوقات میں سے صرف ایک ہی شخص کو مرتبہ کاملہ خلافت تا مہ حقہ کا جوظل مرتبہ الوہیت ہے حاصل ہو سکتا ہے سو اگر چہ اس بحث کے طول دینے کا یہ موقع نہیں ہے لیکن تا ہم اس قدر بیان کر دینا طالب حق کے سمجھانے کے لئے ضروری ہے کہ عادت اللہ یا