شحنۂِ حق — Page 232
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۲۰ سرمه چشم آریه ۱۷۲) طاقت والا جانتے ہیں کہ اس کو فقط جوڑنا جاڑنا آتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ آپ نے تو قرآن شریف کے مطابق انہیں یہ سبق پڑھایا تھا کہ وہ تمام انتہائی درجہ کی قدرتیں اور عظمتیں اور تعریفیں : یں جو ذہن میں آ سکتی ہیں اور وہ سا سکتی ہیں اور وہ سب کمالات اعلیٰ سے اعلیٰ جو سے اعلیٰ جو خدا ہونے کے لئے زیبا و شایان ہیں وہ سب پر میشر کو حاصل ہیں مگر آپ کے چیلے تو چار دن آریہ سماج میں بیٹھ کر اور ویدوں کی ملحدانہ شرتیوں کو سن کر آپ کے اس گورمنتر کو چھوڑ بیٹھے اور وہ پڑی ہی بھول گئے جس پر آپ نے انہیں جمایا تھا اب اور تعریفیں پر میشر کی تو طاق پر رہیں انہوں نے تو وہ پہلا حرف ہی جس سے نام پر میشر کا دنیا میں ظاہر ہوتا ہے یعنی پیدا کرنا اپنے لوح دل سے ایسا مٹا دیا ہے کہ گویا کبھی سناہی نہیں تھا۔ ان کو سودا ہوا ہے ویدوں کا ان کا دل مبتلا ہے ویدوں کا آریو اس قدر کرو کیوں جوش کیا نظر آگیا ہے ویدوں کا نہ کیا ہے نہ کر سکے پیدا سوچ لو یہ خدا ہے ویدوں کا عقل رکھتے ہو آپ بھی سوچو کیوں بھروسا کیا ہے ویدوں کا بے خدا کوئی چیز کیوں کر ہو یہ سراسر خطا ہے ویدوں کا ناستک مت کے وید ہیں حامی بس یہی مدعا ہے ویدوں کا ایسے مذہب کبھی نہیں چلتے کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا دہر یہ مذہب اور واضح رہے کہ یہ تعلیم ویدوں کی کہ دنیا خود بخود چلی آتی ہے کوئی اس کے سر پر پیدا کنندہ و مالک نہیں ہے صرف ایک ادھورا سا جوڑ نے جاڑ نے والا ہے یہ ایک ایسا ناقص اعتقاد ہے جس کے ماننے سے یہ مجبوری یہ ماننا پڑتا ہے کہ اس جوڑ نے جاڑنے والے کو یا تو اپنے ممالک مقبوضہ کا کچھ بھی